امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس سے متعلق پابندیوں کے قانونی دائرہ کار میں توسیع کے لیے پیش کیا گیا بل بھاری اکثریت سے منظور کرلیا، جس کے بعد قانون سازی کا معاملہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان میں بل کے حق میں 262 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 159 نے مخالفت کی، یوں قانون سازی کو ایوان سے واضح اکثریت حاصل ہوگئی،امریکی میڈیا کے مطابق بل کی حمایت میں ریپبلکن ارکان کے ساتھ ڈیموکریٹک پارٹی کے 58 ارکان نے بھی ووٹ دیا، جبکہ 7 ریپبلکن ارکان نے بل کی مخالفت کی۔
قانون سازی کا ایک اہم مقصد روس پر معاشی دباؤ برقرار رکھنا اور اس سے متعلق پابندیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرنا ہےبل کی منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا روس کے خلاف معاشی اور مالی پابندیوں کے مختلف اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
بل میں 1996 کے ایران سینکشنز ایکٹ کی مدت میں مزید پانچ سال کی توسیع شامل ہے،موجودہ قانون کی مدت 2026 کے اختتام پر ختم ہونا تھی، تاہم نئی قانون سازی کے نتیجے میں اس کی مدت بڑھ کر 2031 تک ہوجائے گی۔
یہ بھی پڑھیں :ایران جنگ پر ٹرمپ کو بڑا چیلنج، امریکی ایوان نے تیسری بار قرارداد منظور کرلی
یہ بل امریکی سینیٹ سے پہلے ہی منظور ہوچکا ہے۔ اب ایوان نمائندگان کی منظوری کے بعد قانون سازی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس دستخط کے لیے بھیجی جائے گی،صدر کی منظوری کے بعد بل قانون کی شکل اختیار کرلے گا۔
امریکی میڈیا کے مطابق قانون سازی کا مقصد ایران سے متعلق پابندیوں کے قانونی اختیار کو مزید کئی سال تک برقرار رکھنا بھی ہے،اس اقدام کے ذریعے امریکی حکومت کو ایران کے حوالے سے پابندیوں کی پالیسی جاری رکھنے کے لیے موجود قانونی فریم ورک میں توسیع مل جائے گی[یوں ایوان نمائندگان کی حالیہ منظوری کے بعد ایران اور روس سے متعلق امریکی پابندیوں کے معاملے میں ایک اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے۔


