آزاد ڈیجیٹل شہریوں کی آواز بن گیا، نئے صوبوں کے سروے میں سب سے آگے

آزاد ڈیجیٹل شہریوں کی آواز بن گیا،  نئے صوبوں کے سروے میں سب سے آگے

آزاد ڈیجیٹل نے نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے عوام کی رائے جاننے کے لیے ملک کے مختلف بڑے شہروں میں سروے کرائے، جس میں شہریوں سے نئے صوبوں کے قیام، چھوٹے انتظامی یونٹس اور موجودہ انتظامی تقسیم برقرار رکھنے کے حوالے سے رائے لی گئی۔ کراچی، حیدرآباد، ملتان، لاہور، کوئٹہ، پشاور اور ایبٹ آباد میں شہریوں نے سروے میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔

سروے کے دوران مختلف شہروں سے سامنے آنے والی آرا میں نئے صوبوں کے قیام کے حق میں رائے رکھنے والے شہریوں کی تعداد نمایاں رہی، جبکہ بعض شہریوں نے چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کی اور کچھ افراد نے نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت میں اپنی رائے دی۔

کراچی میں 960 شہریوں نے رائے دی

صوبہ سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی سے مجموعی طور پر 960 شہریوں نے آزاد ڈیجیٹل کے سروے میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔

سروے کے نتائج کے مطابق کراچی میں 896 افراد نے نئے صوبے بننے کے حق میں رائے دی، جبکہ 44 افراد نے نئے انتظامی یونٹس بنانے کے حق میں اپنا ووٹ دیا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے 20 افراد نے نئے صوبوں کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

یوں کراچی کے سروے میں تینوں آپشنز کے حوالے سے شہریوں کی آرا سامنے آئیں، تاہم فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کے حق میں رائے دینے والے افراد کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔

حیدرآباد میں بھی نئے صوبوں کے حق میں رائے

حیدرآباد میں 100 افراد نے آزاد ڈیجیٹل کے سروے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

سروے کے مطابق حیدرآباد میں 80 افراد نے نئے صوبوں کے قیام کے حق میں رائے دی، جبکہ 12 افراد نے چھوٹے انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ کیا۔

حیدرآباد سے 8 افراد نے نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت میں ووٹ دیا۔

حیدرآباد کے سروے میں بھی نئے صوبوں کے قیام کے حق میں رائے دینے والے شہریوں کی تعداد دیگر دونوں آرا کے مقابلے میں زیادہ رہی۔

ملتان میں 400 افراد کی رائے، 376 نے نئے صوبوں کی حمایت کی

ملتان میں مجموعی طور پر 400 افراد نے آزاد ڈیجیٹل کے سروے میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔

فراہم کردہ نتائج کے مطابق 376 افراد نے نئے صوبوں کے قیام کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 24 افراد نے نئے انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ کیا۔

ملتان کے سروے میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق نئے صوبوں کی مخالفت میں ووٹ دینے والے افراد کا کوئی الگ عدد بیان نہیں کیا گیا۔

لاہور میں 800 شہریوں کی رائے سامنے آگئی

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں 800 افراد نے آزاد ڈیجیٹل کے سروے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

سروے کے مطابق 719 افراد نے نئے صوبوں کے قیام کے حق میں رائے دی، جبکہ 60 افراد نے چھوٹے انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ کیا۔

لاہور میں 21 افراد نے نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت میں ووٹ دیا۔

اس طرح لاہور سے موصول ہونے والی آرا میں بھی نئے صوبوں کے قیام کے حق میں رائے رکھنے والے شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔

کوئٹہ میں 120 افراد نے رائے کا اظہار کیا

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں 120 افراد نے آزاد ڈیجیٹل کے سروے میں اپنی رائے دی۔

ان میں سے 103 افراد نے نئے صوبوں کے قیام کے حق میں رائے دی، جبکہ 11 افراد نے چھوٹے انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ کیا۔

کوئٹہ میں 6 افراد نے نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت میں ووٹ دیا۔

پشاور میں شہریوں نے نئے صوبوں کے قیام پر رائے دی

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں 550 افراد نے آزاد ڈیجیٹل کے سروے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

فراہم کردہ نتائج کے مطابق 460 افراد نے نئے صوبوں کے قیام کے حق میں رائے دی، جبکہ 25 افراد نے چھوٹے انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ کیا۔

پشاور میں 15 افراد نے نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت میں ووٹ دیا۔

ایبٹ آباد میں 220 افراد کی رائے

ایبٹ آباد میں 220 افراد نے آزاد ڈیجیٹل کے سروے میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔

سروے کے مطابق 203 افراد نے نئے صوبوں کے قیام کے حق میں رائے دی، جبکہ 11 افراد نے چھوٹے انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ کیا۔

ایبٹ آباد میں 6 افراد نے نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت میں ووٹ دیا۔

مختلف شہروں کے سروے میں مجموعی رجحان

آزاد ڈیجیٹل کی جانب سے کراچی، حیدرآباد، ملتان، لاہور، کوئٹہ، پشاور اور ایبٹ آباد میں کرائے گئے سروے میں شہریوں سے نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے رائے لی گئی۔

فراہم کردہ نتائج میں ہر شہر سے شہریوں کی مختلف آرا سامنے آئیں۔ بعض شہریوں نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کی، بعض نے چھوٹے انتظامی یونٹس بنانے کی رائے دی جبکہ بعض شہریوں نے نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کی۔

سروے کے دستیاب اعداد و شمار میں کراچی، حیدرآباد، لاہور، کوئٹہ، پشاور اور ایبٹ آباد سے نئے صوبوں کے قیام کے حق میں رائے دینے والے شہریوں کی تعداد دیگر درج شدہ آرا کے مقابلے میں زیادہ رہی، جبکہ ملتان میں بھی 400 میں سے 376 افراد نے نئے صوبوں کے قیام کے حق میں ووٹ دیا۔

Related Articles