خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا 27 ستمبر کے متوقع احتجاج کی تیاریوں کے سلسلے میں کیا جانے والا دورہ پنجاب شدید سیاسی تنازعات اور عوامی تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔
وزیر آباد میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت پنجاب کے عوام کے ساتھ تلخ کلامی اور الجھنے کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنے کے بعدایکس پر ان کے خلاف شدید مہم شدت اختیار کر گئی ہے ۔
پولیس اور وزیراعلیٰ کے متضاد دعوے
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا کہ ان کی سکیورٹی ٹیم نے وزیر آباد میں ان پر حملے کی نیت سے آنے والے ایک مسلح شخص کو پکڑا ہے تاہم، گوجرانوالہ اور وزیر آباد پولیس نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق حراست میں لیا گیا شخص کوئی حملہ آور نہیں بلکہ کانسٹیبل مقدس علی تھا، جسے خود وزیراعلیٰ کی سکیورٹی پر تعینات کیا گیا تھا،پولیس کا موقف ہے کہ وزیراعلیٰ کی سکیورٹی ٹیم نے کانسٹیبل پر بلاجواز تشدد کیااور ایک سرکاری ڈیوٹی پر موجود اہلکار کو قاتل بنا کر پیش کرنے کا عمل انتہائی قابلِ مذمت اور حقائق کے منافی ہے۔
سوشل میڈیا مہم اور عوامی ردِعمل
اس واقعے کے فوراً بعد ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک ہیش ٹیگ (#سہیل_آفریدی_وٹ_دا_فک) شروع ہوا جو گزشتہ کئی گھنٹوں سے مسلسل ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہے صارفین کی جانب سے شیئر کی جانے والی درجنوں پوسٹس اور ڈیجیٹل پوسٹرز میں وزیراعلیٰ کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انتظامی کارکردگی بمقابلہ سیاسی انتشار
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا اس وقت دہشتگردی، کرپشن اور دیگر سنگین مسائل کی زد میں ہے، لیکن وزیراعلیٰ اپنے صوبے کو نظر انداز کر کے پنجاب میں سیاسی ڈرامے رچانے اور سڑکوں کی سیاست میں مصروف ہیں، پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت کے مبینہ بیانات کا حوالہ دے کر بھی کہا جا رہا ہے کہ صوبہ تباہ ہو رہا ہے اور وزیراعلیٰ کو پنجاب میں ٹک ٹاکس بنانے سے فرصت نہیں۔
طرزِ عمل اور منصب کا وقار
وائرل ہونے والے مختلف گرافکس میں سہیل آفریدی کی تلخ کلامی کو ‘تکبر’، ‘درشت لہجہ’ اور ‘بدتمیزی’ قرار دیا گیا ہے سوشل میڈیا صارفین سوال اٹھا رہے ہیں کہ جو شخص اپنے غصے اور زبان پر قابو نہیں رکھ سکتا، وہ ایک صوبے کا نظام کیسے چلا سکتا ہے، بعض پوسٹس میں ان کے لیے سڑک چھاپ اور غیر سنجیدہ جیسے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے اسے وزیراعلیٰ کے منصب کی توہین قرار دیا گیا ہے۔
صوبائی ہم آہنگی پر اثرات
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے وزیراعلیٰ پر بین الصوبائی تعصب پھیلانے کا الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے ایک بیانیہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کے پی کا امن متاثر کرنے کے بعد اب دانستہ طور پر پنجاب کا امن خراب کرنے اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے پنجاب کے عوام نے مسترد کر دیا ہے۔
یہ واقعہ اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والا ڈیجیٹل ردعمل، خیبرپختونخوا اور پنجاب حکومتوں کے درمیان موجودہ سیاسی کشیدگی کو مزید ہوا دے رہا ہے، جہاں انتظامی امور سے زیادہ سیاسی محاذ آرائی نمایاں ہو کر سامنے آ رہی ہے۔