پنجاب اسمبلی نے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل گورننس کی پارلیمانی جانچ شروع کردی، اسپیشل کمیٹی نمبر 13 نے عوامی خدمات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا۔
اسپیکر ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت کمیٹی کا افتتاحی اجلاس جمعرات کو منعقد ہوا۔ یہ پاکستان اور جنوبی ایشیا میں پہلی پارلیمانی کمیٹی ہے جسے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل گورننس سے متعلق امور کی جانچ کا خصوصی مینڈیٹ دیا گیا ہے۔
کمیٹی کا اجلاس ارکان کے لیے 2 سے 4 ستمبر تک اسلام آباد میں منعقد ہونے والی 3 روزہ ورکشاپ کے بعد ہوا۔ ورکشاپ کا انعقاد یو این ڈی پی پاکستان اور برطانیہ کی بین الاقوامی ترقیاتی تنظیم نے کیا تھا، جس میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، ان کے ممکنہ فوائد و خطرات اور ذمہ دارانہ گورننس کے اصولوں کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی نے پنجاب میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق پارلیمانی جانچ کے ابتدائی پروگرام پر غور کیا، جس میں شفافیت، جوابدہی، شہریوں کے حقوق، ڈیٹا سیکیورٹی، مؤثر ازالے اور بامعنی انسانی نگرانی کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ ابتدائی جانچ کے لیے صوبائی عوامی خدمات کے 2 نظاموں کی نشاندہی کی گئی۔ پہلا پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا مصنوعی ذہانت سے معاونت یافتہ ای چالان نظام ہے۔
کمیٹی ای چالان نظام میں خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی درستگی، خلاف ورزیوں کی انسانی تصدیق، شہریوں کی شواہد تک رسائی، فیصلوں کو چیلنج اور ان پر نظرثانی کے طریقہ کار اور متعلقہ ڈیٹا کے استعمال کا جائزہ لے گی۔ دوسرا نظام پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری (PSER) سے منسلک فلاحی امداد سے متعلق ہے۔ کمیٹی رجسٹریشن اور رسائی، ڈیٹا کی درستگی، اہلیت کے جائزے، منفی فیصلوں کی وجوہات، غلط معلومات کی درستی اور نظرثانی کے مواقع کا جائزہ لے گی۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ شواہد کی بنیاد پر یہ طے کیا جائے گا کہ اہلیت کا تعین حقیقت میں کس طریقے سے کیا جاتا ہے، آیا اس کے لیے دستی جانچ، مقررہ قواعد، شماریاتی اسکورنگ، مشین لرننگ یا ان طریقوں کا مجموعہ استعمال کیا جاتا ہے، نہ کہ یہ فرض کرلیا جائے کہ اس عمل میں مصنوعی ذہانت شامل ہے۔ کمیٹی نے ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے آئینی اور قانونی مضمرات پر بھی غور کیا، جن میں ڈیجیٹل نقصانات، ڈیپ فیکس، جمہوری اعتماد کو لاحق خطرات، خواتین اور کمزور طبقات کو درپیش خطرات، ڈیٹا گورننس اور ادارہ جاتی صلاحیت شامل ہیں۔