وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ نہ اسلام آباد سومنات ہے اور نہ یہ شخص محمود غزنوی ہے۔
اسلام آباد پاکستان، اسلام کا قلعہ ہے اور وفاق کی علامت ہے۔ ان کی زبان بتا رہی ہے کہ یہ کتنے پاکستانی ہیں اور یہ اقتدار کے حصول کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں۔ اور عمران خان نے ان کو کیا سبق پڑھایا ہے۔
روز خیبرپختونخوا میں جو خون بہہ رہا ہے، اس سے ان کا دل نہیں روتا؟ کیا طالبان ان کے اتحادی ہیں جو یہ KPK پولیس اور بہادروں کی شہادتوں کا سدباب کرنے کی بجائے مزید انتشار اور نفرت پھیلا رہے ہیں؟27 ستمبر کو جس حملے کی یہ بات کر رہا ہے، کیا وہ طالبان کا حملہ ہے؟ کیا پاکستان میں مقیم افغانی اس لشکر کا حصہ ہوں گے؟
یہ بھی پڑھیں :جنید اکبر اور پی ٹی آئی تشدد اور خونریزی کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، عطا تارڑ
عمران نیازی اور حواری اقتدار کے حصول کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں، ہم نے 9 مئی کو دیکھا، 26 نومبر کو دیکھا اور اب یہ شخص جو اپنے عزائم بتا رہا ہے، پاکستان کے عوام ان کی اصلیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
یہ لوگ کل بھی امن، ترقی اور پاکستان کے دشمن تھے، آج بھی ہیں اور کل بھی ہوں گے۔لاکھ اختلافات ہوں، کوئی پاکستانی یہ زبان نہیں بول سکتا۔ یہ پاکستان دشمن زبان ہے، کسی کو کوئی ابہام رہ گیا؟
نہ اسلام آباد سومنات ھے اور نہ یہ شخص محمود غزنوی ھے۔ اسلام آبادپاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور وفاق کی علامت ھے۔ انکی زبان بتا رہی کہ یہ کتنے پاکستانی ھیں ۔ اور یہ اقتدار کے حصول کے لئے کس حد جا سکتے ھیں۔ اور عمران خان نے انکو کیا سبق پڑھایا ھے۔ روز پختونخواہ میں جو خون بہہ رہا ھے… pic.twitter.com/Rnv7Lco17c
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) September 20, 2026


