پاکستانی فلم اور ٹی وی کی سینئر اداکارہ اور معروف ہدایت کارہ سنگیتا نے اپنی تیسری شادی کا انکشاف کرتے ہوئے سابقہ شادیوں میں پیش آنے والے مبینہ گھریلو تشدد کے واقعات پر کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق حال ہی میں میں ہدایت کارہ نے ایک پروگرام میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی تیسری شادی کے حوالے سے تفصیلات بیان کیں اور سابقہ شادیوں میں پیش آنے والے مبینہ تشدد کے بارے میں بھی گفتگو کی ۔
اپنی نجی زندگی سے متعلق بات کرتے ہوئے سنگیتا نے کہا کہ یہ میری تیسری شادی ہے، میری پہلی شادی ہمایوں قریشی سے اور دوسری نوید اکبر سے ہوئی تھی، میں نے تیسری شادی طارق میندرو سے کی، جو فلم انڈسٹری سے وابستہ ہیں اور ایک بڑے ڈسٹری بیوٹر ہیں، ہماری شادی کو 14 سال ہو چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اپنی بچوں کی شادیاں کرنے کے بعد میں تنہا رہ گئی تھیں، جس کے بعد طارق نے مجھے کئی مرتبہ شادی کی پیشکش کی۔
سنگیتا کا کہنا تھا کہ میں نے سوچا کہ بڑھاپے میں انسان کے ساتھ ایک ساتھی ضرور ہونا چاہیے، میرے شوہر میں ایک یہ خوبی ہے کہ وہ نہ گالم گلوچ کرنے والے شخص ہیں، نہ خواتین پر ہاتھ اٹھاتے ہیں اور نہ ہی بلاوجہ لڑائی جھگڑا کرتے ہیں، اگر میں بھی غصے میں ہوں تو وہ خاموشی سے کمرے سے باہر چلے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میری موجودہ شادی اسی وجہ سے کامیابی سے چل رہی ہے کہ غصے کی حالت میں ہم دونوں ایک دوسرے سے بحث کرنے کے بجائے خاموش ہو جاتے ہیں۔
اداکارہ و ہدایتکارہ کا کہنا تھا کہ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں، لیکن شادی میں سب سے بڑا ریڈ فلیگ جسمانی تشدد ہے، اسی وجہ سے میں نے پہلے طلاق لی تھی، اگر جسم کا کوئی حصہ ناکارہ ہو جائے تو اسے کاٹ دینا چاہیے، میں نے بہت کچھ برداشت کیا ہے، یہاں تک کہ میں جسم پر چوٹوں کے نشانات کے ساتھ اسٹوڈیو پہنچا کرتی تھی۔