پاکستان نے طویل مدتی معاہدے کے تحت قطر سے رواں ماہ ’ایل این جی‘ کی دوسری کھیپ کامیابی سے حاصل کر لی ہے، جس سے ملک کے پاور سیکٹر اور گیس کی قلت کے شکار علاقوں کو فوری ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
قطر سے آنے والا بحری جہاز ’شینڈونگ ریڈووڈ‘ بدھ کی صبح ’پی جی پی ایل‘ ٹرمینل پر لنگر انداز ہوا۔ یہ کھیپ برینٹ خام تیل کی قیمت کے 13.37 فیصد کے مساوی طے شدہ معاہدے کے تحت موصول ہوئی ہے۔
اس سے قبل 10 ستمبر کو ’المرونہ‘ نامی جہاز قطر کے ’راس لفان‘ ٹرمینل سے 81,936 میٹرک ٹن ’ایل این جی‘ لے کر ’اینگرو‘ ٹرمینل پر پہنچا تھا۔
ان دونوں جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزارنے کے لیے پاکستانی حکام نے ایرانی قیادت کے ساتھ کامیاب اور مؤثر سفارتی رابطہ کاری کی۔
مقامی گیس کی پیداوار میں تعطل اور کڑی نگرانی
ملک میں گیس کی ترسیل کے نیٹ ورک کو کڑی نگرانی میں رکھا جا رہا ہے۔ 21 ستمبر کے اعداد و شمار کے مطابق لائن پیک 4,792 ایم ایم سی ایف رہا، جبکہ پاور سیکٹر 208 ایم ایم سی ایف ڈی اور کھاد بنانے والا سیکٹر 89 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کر رہا ہے۔
دوسری جانب، مقامی سطح پر گیس فیلڈز کو تکنیکی اور مالی مسائل کا سامنا ہے۔ ادائیگیاں نہ ہونے پر 17 ستمبر کی صبح سے ’قادر پور‘ فیلڈ سے ’لبرٹی پاور‘ کو فراہمی معطل ہے۔
اسی طرح ’ایم ای ایل‘ کے پلانٹ سے سالانہ مرمت کے باعث گیس کی پیداوار میں 37 ایم ایم سی ایف ڈی کمی واقع ہوئی ہے اور موجودہ فراہمی 52 ایم ایم سی ایف ڈی پر آ گئی ہے۔
’ناشپا‘ پلانٹ اور ’ایم او ایل‘ کے پلانٹس سے بھی تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے بالترتیب 83 اور 158 ایم ایم سی ایف ڈی کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود ’ایس این جی پی ایل‘ نیٹ ورک پر تاحال گیس کی جبری کٹوتی نہیں کی جا رہی۔
درآمدی ایندھن پر انحصار
پاکستان اپنی توانائی اور صنعتی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک درآمدی ’ایل این جی‘ پر انحصار کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز کے راستے ترسیل میں ذرا سا بھی خلل نہ صرف گیس کی درآمدی لاگت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے بلکہ اس سے بجلی کی پیداوار پر بھی شدید دباؤ پڑتا ہے۔
قطر عالمی سطح پر گیس کا ایک بڑا سپلائر ہے اور اس نے خطے میں ایران سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے قائم کر رکھے ہیں، جس کا براہِ راست فائدہ پاکستان کو گیس کی ہموار فراہمی کی صورت میں ملا ہے۔
توانائی کے بحران اور سپلائی چین کا مستقبل
مقامی گیس کے ذخائر میں تیزی سے ہوتی کمی اور مقامی پلانٹس کی بار بار تکنیکی خرابیوں نے واضح کر دیا ہے کہ درآمدی گیس پر پاکستان کا انحصار خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
اگرچہ حالیہ قطری کھیپ نے وقتی طور پر کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کے شکار عوام اور دباؤ میں گھرے پاور سیکٹر کو سانس لینے کا موقع دیا ہے، لیکن عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی حساس جغرافیائی سیاست کسی بھی وقت اس سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔
پاکستان کے توانائی کے نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے آبنائے ہرمز کا محفوظ رہنا انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے، وگرنہ مستقبل میں مہنگی ترین گیس خریدنا ملکی معیشت کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہوگا۔