پاکستان کی تمام تر توجہ ایران جنگ کے خاتمے پر مرکوز، تہران اور واشنگٹن کے درمیان مخلصانہ ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
Home - اہم خبریں - پاکستان کی تمام تر توجہ ایران جنگ کے خاتمے پر مرکوز، تہران اور واشنگٹن کے درمیان مخلصانہ ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی تمام تر توجہ ایران جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر مرکوز ہے، جبکہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک مخلص اور غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر عالمی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں پوری طاقت کے ساتھ جاری ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر خود ان کے، امریکی صدر ’ٹرمپ‘ اور ایرانی صدر کے دستخط موجود تھے، تاہم بعد میں رونما ہونے والے حالات اور واقعات انتہائی غیر متوقع تھے جس کی وجہ سے پیدا ہونے والا بحران پیچیدہ ہو گیا۔
امید اور مسلسل سفارتی کوششیں
شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود پاکستان نے امن کی امید نہیں چھوڑی ہے۔ کشیدگی میں کمی اور مثبت پیش رفت کے لیے اسلام آباد کا عزم غیر متزلزل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان دوریوں کو مٹانا اور دوطرفہ اعتماد بحال کرنا ایک مسلسل عمل ہے، جس میں تمام دوست ممالک بھی مل کر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔
پاک ایران تعلقات اور امریکی کشیدگی
تاریخی طور پر پاکستان نے ہمیشہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک متوازن اور غیر جانبدارانہ سفارتی پالیسی اپنائی ہے۔ ایران پاکستان کا پڑوسی ملک ہے جبکہ امریکا کے ساتھ بھی پاکستان کے دیرینہ اسٹریٹجک اور معاشی تعلقات ہیں۔
ماضی میں بھی جب جب خلیجی خطے اور امریکا و ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچی، پاکستان نے ہمیشہ دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ایک ’پل‘ کا کردار ادا کیا ہے۔ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا جس کا مقصد خطے میں قائم نازک امن کو برقرار رکھنا تھا۔
خطے کی صورتحال اور ثالثی کے امکانات
اگر خطے کے موجودہ جغرافیائی اور سیاسی منظر نامے کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی قسم کا حتمی تصادم نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا کے لیے بھی انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے ثالثی کی یہ پیشکش اور کوشش ایک جرات مندانہ اور بصیرت افروز پیش رفت ہے۔ اگرچہ نامساعد حالات اور غیر متوقع واقعات کے باعث سفارتی راستے مسدود محسوس ہوتے ہیں، تاہم دونوں ممالک سے اچھے تعلقات رکھنے کی بنا پر پاکستان واحد ایسا ملک ہے جو فریقین کے تحفظات دور کر کے ایک درمیانی راہ نکال سکتا ہے۔ اس تناظر میں تمام دوست ممالک کا تعاون اور پاکستان کا ’مخلصانہ ثالث‘ کا نقش انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔