اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سیکیورٹی حکام کی جانب سے موصول ہونے والی خفیہ اطلاعات کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے لیے اپنا دورہ نیویارک انتہائی مختصر کر کے محض چند گھنٹوں تک محدود کر دیا ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ اور ’چینل 13‘ کی رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کو سیکیورٹی حکام کی جانب سے امریکا میں رات کے وقت قیام نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
نئی طے شدہ ترتیب کے تحت اسرائیلی وزیراعظم بدھ کی رات اسرائیل سے روانہ ہو کر جمعرات کی صبح نیویارک پہنچیں گے۔ وہ نیویارک کے وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق رات 11 بجے) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور اسی دن کی شام اسرائیل واپس روانہ ہو جائیں گے۔
اس مختصر ترین دورے سے قبل ٹیکساس کا طے شدہ دورہ اور معروف کاروباری شخصیت ’ایلون مسک‘ سے ملاقات منسوخ کر دی گئی، حالانکہ ان کے پیشگی انتظامات کے لیے اسرائیلی ٹیم پہلے ہی ٹیکساس پہنچ چکی تھی۔ اس کے علاوہ امریکی صدر ’ڈونلڈ ٹرمپ‘ کے ساتھ بھی کوئی ملاقات طے نہیں پا سکی، جس کی وجہ امریکی حکام نے مصروفیت اور وقت کی کمی بتائی ہے۔
نیویارک میں احتجاجی فضا اور میئر سے زبانی جنگ
نیتن یاہو کا یہ مختصر دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب نیویارک میں شدید عوام غصے کی لہر دوڑ چکی ہے اور غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں اور فلسطینی علاقوں سے متعلق پالیسیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں کی توقع ہے۔
دورے سے قبل نیتن یاہو اور نیویارک کے میئر ’ظہران ممدانی‘ کے درمیان شدید الفاظ کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔ میئر ظہران ممدانی نے اسرائیلی وزیراعظم کو علانیہ طور پر ’جنگی مجرم‘ قرار دیتے ہوئے ان پر فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام عائد کیا اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب نیتن یاہو نے میئر پر ’حماس‘ کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے اسرائیل کا دفاع کریں گے۔
’آئی سی سی‘ وارنٹ اور گزشتہ سال کی وائرل ویڈیو کا سچ
اس تمام صورتحال کا ایک اہم پس منظر نومبر 2024 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے نیتن یاہو اور سابق دفاعی وزیر ’یوآو گیلنٹ‘ کے خلاف جاری کیے گئے گرفتاری کے وارنٹ ہیں۔
عدالت نے ان پر جنگی جرائم، عام شہریوں کو نشانہ بنانے، قتل اور بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔
اگرچہ نیویارک کے میئر نے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ نیتن یاہو کو امریکا میں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر نیتن یاہو کے خطاب کے دوران سفارتکاروں کے واک آؤٹ کرنے کی جو ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں، وہ حالیہ 81 ویں جنرل اسمبلی کی نہیں ہیں۔
ہسپانوی ادارے ’آر ٹی وی ای‘ اور اقوام متحدہ کے آرکائیوز کی تصدیق کے مطابق یہ ویڈیو 26 ستمبر 2025 کو 80 ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس کی ہے، جسے غلط طریقے سے حالیہ دورے سے جوڑا جا رہا ہے۔
سفارتی دباؤ اور غیر یقینی کا شکار اسرائیل
نیویارک میں محض چند گھنٹے کا قیام، اعلیٰ ترین امریکی قیادت سے ملاقاتوں کی عدم موجودگی اور سیکیورٹی خدشات کا خوف اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اسرائیلی قیادت اس وقت بین الاقوامی سطح پر شدید سفارتی تنہائی اور دباؤ کا شکار ہے۔
عالمی عدالت کے وارنٹ اور عوامی احتجاج کے ڈر نے ایک ریاست کے سربراہ کی نقل و حرکت کو محدود کر کے رکھ دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے فورم کا مختصر استعمال اور امریکی صدر کی عدم دستیابی یہ ثابت کرتی ہے کہ اسرائیل اور اس کے سب سے بڑے اتحادی کے درمیان اندرونی طور پر صورتحال پہلے جیسی سازگار نہیں رہی، اور نیتن یاہو عالمی سطح پر اپنے بیانیے کو پیش کرنے میں انتہائی مشکلات سے دوچار ہیں۔