پشاور پولیس نے 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس کی تفتیشی رپورٹ انسداد دہشتگردی عدالت میں جمع کراتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو باقاعدہ نامزد کر دیا ہے۔ اس اہم ترین پیش رفت کے بعد وزیراعلیٰ کی ممکنہ نااہلی اور نتیجے میں صوبائی کابینہ کے مکمل طور پر تحلیل ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
تھانہ شرقی پشاور کی جانب سے انسداد دہشتگردی کی عدالت نمبر 3 میں جمع کرائی گئی تفصیلی پراگریس رپورٹ کے مطابق، واقعے کے وقت کی ویڈیوز پر مشتمل ’یو ایس بی‘ عدالت کے حکم پر تصدیق کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (’پی ایف ایس اے‘) لاہور اور ’نادرا‘ اسلام آباد کو بھیجی گئی تھی۔
18 دسمبر 2025 کو عدالتی احکامات کے بعد متعلقہ اداروں نے ویڈیوز کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ جنوری اور فروری 2026 میں موصول ہونے والی ان مستند رپورٹس میں ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کے دوران 5 اہم سیاسی شخصیات کی موجودگی کی حتمی تصدیق کی گئی ہے۔
ان میں موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، سابق وزرا تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش، پی ٹی آئی پشاور کے صدر عرفان سلیم اور عامر چمکنی شامل ہیں۔
قانونی کارروائی اور ڈائریکٹر کا ضمنی بیان
پولیس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فرانزک اور ’نادرا‘ کی جانب سے ملزمان کی شناخت کی حتمی تصدیق کے بعد، ریڈیو پاکستان پشاور کے ڈائریکٹر نے اپنا ضمنی بیان ریکارڈ کرایا ہے۔
اس بیان اور ٹھوس شواہد کی روشنی میں پولیس نے مذکورہ بالا تمام سیاسی رہنماؤں کو واقعے میں ملوث قرار دیتے ہوئے پروانہ نامزدگی جاری کر دیا ہے۔
تفتیشی افسر نے تمام بیانات اور شواہد پر مبنی چالان فارم عدالت کے روبرو پیش کر دیا ہے، جس کے بعد ان رہنماؤں کے خلاف باقاعدہ ٹرائل کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔
9 مئی کے واقعات اور آئینی بحران کا خطرہ
گزشتہ برس 9 مئی کو ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران پشاور میں ریڈیو پاکستان کی تاریخی عمارت کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا۔
اس واقعے کا مقدمہ تھانہ شرقی میں انسداد دہشتگردی ایکٹ اور دیگر سنگین دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ اب جبکہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو اس حساس مقدمے میں نامزد کر دیا گیا ہے، صوبہ ایک گہرے آئینی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔
آئینِ پاکستان کے تحت اگر وزیراعلیٰ کسی بھی جرم میں سزا یافتہ ہو کر نااہل قرار پاتے ہیں، تو ان کی پوری کابینہ ازخود تحلیل ہو جاتی ہے، جس کے بعد ایوان کو نئے قائدِ ایوان کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔
موجودہ سیاسی و قانونی صورتحال کا جائزہ
موجودہ حالات کا قانونی اور سیاسی زاویے کے تحت یہ نامزدگی محض ایک روایتی ایف آئی آر نہیں ہے، بلکہ اس کی بنیاد جدید سائنسی اور فرانزک شواہد پر رکھی گئی ہے۔
’نادرا‘ اور ’پی ایف ایس اے‘ جیسے ریاستی اداروں کی جانب سے ویڈیوز کی تصدیق نے ملزمان کے قانونی دفاع کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔
یہ پیش رفت خیبرپختونخوا کی سیاست میں ایک نیا بھونچال لا سکتی ہے۔ فرانزک شواہد پر مبنی اس مقدمے کا دباؤ نہ صرف موجودہ صوبائی حکومت کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے، بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف ریاستی اداروں کی کارروائی کسی سیاسی عہدے کی پرواہ کیے بغیر اپنے منطقی انجام کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔