خیبر پختونخواہ میں شدید ژالہ باری، انڈے جتنے بڑے اولوں نے تباہی مچا دی

خیبر پختونخواہ میں شدید ژالہ باری، انڈے جتنے بڑے اولوں نے تباہی مچا دی

خیبرپختونخوا کے اضلاع مہمند اور خیبر کی مختلف تحصیلوں میں گزشتہ رات بارش کے ساتھ شدید ژالہ باری ہوئی، جس کے دوران بعض علاقوں میں انڈے کے حجم جتنے بڑے اولے پڑنے سے کھڑی فصلوں، گھروں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق ضلع مہمند کی تحصیل پنڈیالی کے مختلف علاقوں میں شدید ژالہ باری سے کھڑی فصلیں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ٹماٹر کی فصل کو خاص طور پر نقصان پہنچا ہے۔

کاشتکاروں کے مطابق بعض علاقوں میں تیار ٹماٹر کی فصل شدید ژالہ باری کی زد میں آکر تباہ ہوگئی، جس کے باعث انہیں مالی نقصان کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فصل تیار ہونے کے مرحلے میں ژالہ باری نے ان کی کئی ماہ کی محنت کو شدید متاثر کیا ہے اور حکومت کو نقصانات کا فوری سروے کرانا چاہیے۔

تحصیل امبار کے علاقے گمبتی میں بھی بڑے حجم کے اولوں نے گھروں اور زمینوں پر نصب سولر پینلز کو نقصان پہنچایا۔ مقامی افراد کے مطابق کئی سولر پلیٹیں ٹوٹ گئیں جبکہ بعض گھروں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

ضلع خیبر کے مختلف علاقوں میں بھی بارش کے ساتھ ژالہ باری ہوئی تاہم مجموعی مالی نقصان کے حوالے سے تاحال سرکاری طور پر کوئی حتمی اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:11 ماہ بعد بڑا فیصلہ، نیپرا نے بجلی صارفین کے دل جیت لیے

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مہمند اور خیبر کے علاقوں میں بڑے حجم کے اولے پڑنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بھی ان علاقوں سمیت ملک کے دیگر حصوں میں شدید ژالہ باری کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جن میں فصلوں، سولر پینلز، گاڑیوں اور گھروں کو نقصان پہنچا۔

گزشتہ برس اکتوبر میں ضلع مہمند کی تحصیل پڑانگ غار میں شدید ژالہ باری سے فصلوں، سولر پینلز اور گھروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جبکہ بعض مقامات پر اولوں کی زد میں آکر مویشی اور پالتو جانور بھی زخمی ہوئے تھے۔

اسی طرح گزشتہ سال اپریل میں اسلام آباد کے بعض علاقوں میں بھی غیر معمولی حجم کے اولے پڑنے سے گاڑیوں، گھروں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا تھا۔ بڑے اولوں کے باعث کئی مقامات پر شیشے ٹوٹنے اور چھتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

متاثرہ افراد نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ژالہ باری سے ہونے والے نقصانات کا فوری سروے کرایا جائے اور متاثرہ کاشتکاروں اور شہریوں کو ممکنہ ریلیف فراہم کیا جائے۔

ماہرین موسمیات کے مطابق بڑے حجم کے اولوں کی تشکیل میں بادلوں کے اندر تیزی سے اوپر اٹھنے والی ہوائیں، جنہیں اپ ڈرافٹ کہا جاتا ہے، اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ ہوائیں برف کے ذرات کو بادلوں کے اندر بار بار اوپر کی طرف دھکیلتی ہیں، جس کے نتیجے میں ان پر پانی کی مزید تہیں جمتی جاتی ہیں اور اولوں کا حجم بڑھتا رہتا ہے۔

درجہ حرارت میں نمایاں فرق بھی اس عمل کو تیز کرسکتا ہے۔ زمین کے قریب اور بادلوں کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت کا فرق جتنا زیادہ ہو، بعض مخصوص موسمی حالات میں بادلوں کے اندر برف کے ذرات کے بڑھنے کا عمل اتنا ہی مضبوط ہوسکتا ہے۔

حالیہ ژالہ باری کے نتیجے میں تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم فصلوں اور سولر پینلز کو پہنچنے والے نقصان نے مقامی آبادی کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نقصانات کا تخمینہ لگا کر انہیں مناسب معاونت فراہم کی جائے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles