عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے نوٹیفکیشن فوری طور پر معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کردیے اور جواب طلب کرلیا۔

جسٹس عبہر گل خان نے ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے مدثر عمر ایڈووکیٹ اور بیرسٹر تیمور عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے فرخ لودھی ایڈووکیٹ نے نمائندگی کی۔

سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ دونوں خواتین کی نظر بندی کے نوٹیفکیشن فوری طور پر معطل کیے جائیں۔ وکیل کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی گھریلو خواتین ہیں، جبکہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کے خلاف ایک مقدمے میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بھی درخواست کے ساتھ منسلک ہے۔

عدالت نے فوری طور پر نظر بندی کے احکامات معطل کرنے کی درخواست منظور نہیں کی اور متعلقہ فریقین سے رپورٹ اور جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ فریقین کا مؤقف سامنے آنے کے بعد معاملے پر مزید کارروائی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:11 ماہ بعد بڑا فیصلہ، نیپرا نے بجلی صارفین کے دل جیت لیے

دستیاب عدالتی کارروائی کے مطابق ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو 21 ستمبر کو لاہور میں 30 روز کے لیے نظر بند کیا گیا تھا۔ ان کی نظر بندی پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت کی گئی تھی۔ لاہور کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری حکم میں دونوں کو 30 روز کے لیے نظر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق دونوں کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا تھا۔ ان کی نظر بندی کے احکامات کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا، جس پر آج عدالت نے فوری معطلی کی استدعا پر ریلیف دینے کے بجائے فریقین سے جواب طلب کیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ اور احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف درخواستیں بھی اسی عرصے میں عدالت کے سامنے آئی ہیں۔

دریں اثنا عمران خان کی ایک اور بہن علیمہ خان کی نظر بندی سے متعلق درخواست پر بھی لاہور ہائیکورٹ میں کارروائی جاری ہے۔ عدالت نے علیمہ خان کی نظر بندی کے معاملے پر مزید دلائل کے لیے 25 ستمبر کی تاریخ مقرر کر رکھی ہے۔

یوں ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو فوری عدالتی ریلیف نہیں مل سکا تاہم ان کی نظر بندی کے خلاف درخواستیں بدستور لاہور ہائیکورٹ کے سامنے زیر سماعت ہیں اور عدالت نے متعلقہ فریقین کے جواب طلب کرلیے ہیں۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles