عدالت کی جانب سے ٹرمپ کی عائد پابندی ختم، تینوں میڈیا اداروں کے صحافیوں کی وائٹ ہاؤس آمد بحال

عدالت کی جانب سے ٹرمپ کی عائد پابندی ختم، تینوں میڈیا اداروں کے صحافیوں کی وائٹ ہاؤس آمد بحال

امریکی وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکنے کے اقدام پر عارضی طور پر پابندی عائد کرتے ہوئے تینوں میڈیا اداروں کے صحافیوں کی رسائی فوری بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

صحافیوں کی وائٹ ہاؤس رسائی بحال

میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹموتھی کیلی نے یہ حکم اس مقدمے میں جاری کیا جو تینوں میڈیا اداروں نے 18 ستمبر کو عائد پابندی کے خلاف دائر کیا تھا ،  عدالت نے قرار دیا کہ صحافیوں کے پریس پاسز منسوخ کرنے سے قبل انہیں آئینی تقاضوں کے مطابق مناسب نوٹس اور اپیل کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔

ٹرمپ نے تینوں اداروں پر کیا الزام لگایا؟

امریکی صدر ٹرمپ نے پابندی کا اعلان کرتے ہوئے تینوں اداروں پر مسلسل ’جعلی خبریں‘ اور من گھڑت رپورٹس نشر کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ دوسری جانب امریکی محکمۂ انصاف کے وکلاء نے عدالت میں وائٹ ہاؤس میں رسائی پر پابندی کا دفاع کرتے ہوئے قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ’اے آئی فورس‘ بنانے کا اعلان

ٹی وی پول کوریج کی معطلی

حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وائٹ ہاؤس پول نے بھی انتہائی واضح اور سخت موقف اختیار کیا گیا ، ٹی وی پول صدر ٹرمپ کی کسی بھی پول کوریج کو کور نہیں کرے گا اور اس بائیکاٹ کے دوران اس پول کا کوئی متبادل بھی مہیا نہیں کیا جائے گا۔ اس اقدام کے بعد انتظامیہ اور صحافتی برادری کے درمیان کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا۔

قانونی کارروائی جاری

عدالت کے حکم سے فی الحال صحافیوں کی وائٹ ہاؤس تک رسائی بحال ہو گی جبکہ مقدمے میں آئینی اور قانونی معاملات پر مزید کارروائی جاری رہے گی۔

خیال رہے کہ امریکی صحافت کی تاریخ میں انتظامیہ اور میڈیا کے درمیان تضادات کوئی نئی بات نہیں، تاہم وائٹ ہاؤس میں رسائی مکمل طور پر روکنے اور تنقید کی سزا دینے کی روایت شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آئی۔

editor

Related Articles