اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریوں کو بیرون ملک جانے سے روکنے اور ایئرپورٹس پر آف لوڈ کرنے کے معاملے میں ایف آئی اے کی جانب سے اپنے طور پر بنائے گئے ایس او پیز پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر شہریوں کو آف لوڈ کرنے کے قانونی اختیار سے متعلق مکمل معاونت طلب کرلی۔
جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ ایس او پی قانون نہیں ہوتا، عدالتوں کو قانون پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے۔ عدالت نے ایف آئی اے حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر ایس او پیز کے بجائے یہ بتایا جائے کہ کس قانون کے تحت کسی شہری کو بیرون ملک جانے سے روکا یا ایئرپورٹ پر آف لوڈ کیا جاسکتا ہے۔
شہری محمد ساجد کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالتی طلبی پر ایف آئی اے کی ایڈیشنل ڈائریکٹر زنیرہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر افضل نیازی عدالت میں پیش ہوئے۔ ایف آئی اے حکام کی جانب سے شہریوں کی آف لوڈنگ کے حوالے سے 1975 کا ایک خط بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے ایف آئی اے کی جانب سے پیش کیے گئے خط کا جائزہ لینے کے بعد ریمارکس دیے کہ اس میں ایسا کچھ موجود نہیں جس کی بنیاد پر کسی شہری کو آف لوڈ کیا جاسکے۔
ایف آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ شہریوں کو آف لوڈ کرنے کے اقدامات ادارے کے ایس او پیز کے تحت کیے جاتے ہیں۔ اس پر عدالت نے واضح کیا کہ ایس او پیز قانون نہیں ہوتے اور اگر ادارے قانون کے بجائے اپنے بنائے ہوئے ایس او پیز پر عمل کرنا شروع کردیں تو ہر ادارہ اپنی مرضی سے قواعد وضع کرسکتا ہے۔
عدالت نے بنیادی حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کو ازخود بنائے گئے ایس او پیز کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ اگر ایف آئی اے کے پاس کسی شہری کو آف لوڈ کرنے کا واضح قانونی اختیار موجود نہیں تھا تو قانون میں ترمیم کی سفارش کیوں نہیں کی گئی۔
سماعت کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے افضل نیازی نے بیرون ملک جانے والے پاکستانی شہریوں سے متعلق اعداد و شمار عدالت کے سامنے پیش کیے۔ ان کے مطابق 45 ہزار 850 افراد ڈی پورٹ ہوکر پاکستان واپس آئے جبکہ پاکستان سے وزٹ ویزے پر بیرون ملک جانے والے 39 ہزار 95 افراد واپس نہیں آئے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق 1100 سے زائد افراد بیرون ملک گداگری میں بھی ملوث ہیں۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ کیا بیرون ملک جانے والے یہ تمام افراد ایف آئی اے کی کلیئرنس کے بعد ہی پاکستان سے روانہ ہوئے تھے۔ عدالت نے اس امر پر بھی سوال اٹھایا کہ اگر کوئی شہری پاسپورٹ، ویزا اور دیگر سفری دستاویزات رکھتا ہے تو محض اس خدشے کی بنیاد پر اسے روکنے کا قانونی اختیار کہاں سے حاصل ہوتا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے ملک کا ایک باقاعدہ وفاقی ادارہ ہے اور اس کے اہلکار یونیفارم میں فرائض انجام دیتے ہیں تاہم کسی بھی اقدام کے لیے قانونی اختیار ضروری ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی معاملے میں موجودہ قانون ناکافی ہے تو متعلقہ قانون میں ترمیم کی جاسکتی ہے لیکن محض ایس او پیز بنا کر قانونی اختیار پیدا نہیں کیا جاسکتا۔
یہ معاملہ اس سے قبل بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت رہا ہے۔ 18 ستمبر کی سماعت میں عدالت نے شہری رب نواز کو بیرون ملک سفر کی اجازت دیتے ہوئے ایف آئی اے سے استفسار کیا تھا کہ شہریوں کو آف لوڈ کرنے اور سفری پابندی کی فہرستوں میں نام شامل کرنے کا قانونی اختیار کس قانون کے تحت حاصل ہے۔ اس موقع پر بھی ایف آئی اے کی جانب سے ایس او پیز اور داخلی ضوابط کا حوالہ دیا گیا تھا۔
حالیہ سماعت میں عدالت نے ایف آئی اے حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ پیشی پر مکمل تیاری کے ساتھ آئیں اور صرف ایس او پیز پیش کرنے کے بجائے عدالت کو یہ بتایا جائے کہ کسی پاکستانی شہری کو بیرون ملک جانے سے روکنے یا ایئرپورٹ پر آف لوڈ کرنے کے لیے کون سا قانون ایف آئی اے کو یہ اختیار دیتا ہے