مسلم لیگ ن کے سینیئر ترین رہنما نجیب نقی جمعرات کو قانون ساز اسمبلی میں ہونے والے انتخاب میں 32 ووٹ حاصل کر کے ریاست جموں کشمیر کے 45 ویں صدر منتخب ہو گئے ہیں، ان کے مد مقابل پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار لطیف اکبر نے 13 ووٹ حاصل کیے۔
پونچھ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار سیاست دان نے ایوان میں واضح اکثریت حاصل کر کے صدارت کا منصب اپنے نام کیا۔ ریاست جموں کشمیر کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے کے لیے جمعرات کے روز قانون ساز اسمبلی میں رائے شماری کا باقاعدہ عمل مکمل ہوا۔
اس اہم اجلاس میں ارکانِ اسمبلی نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، جس میں مسلم لیگ ن کے امیدوار نجیب نقی نے میدان مار لیا۔
انہوں نے ایوان سے 32 ارکان کی حمایت حاصل کی، جو ان کی اور ان کی جماعت کی واضح مقبولیت اور ایوان میں گرفت کو ظاہر کرتی ہے۔ انتخاب کے نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی اسمبلی ہال اور مسلم لیگ ن کے حلقوں میں جشن کا سماں پیدا ہو گیا۔
طویل سیاسی سفر اور پونچھ ڈویژن کی نمائندگی
نومنتخب صدر کا تعلق آزاد کشمیر کے پونچھ ڈویژن سے ہے اور ان کا شمار مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے بانی اور سینیئر ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے۔
انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کے دوران پارٹی کے لیے بے شمار قربانیاں دیں اور ہر مشکل وقت میں قیادت کے ساتھ کھڑے رہے۔
صدارت کا یہ منصب درحقیقت ان کی دہائیوں پر محیط نظریاتی سیاست اور انتھک عوامی خدمت کا اعتراف ہے۔
پونچھ ڈویژن سے ان کا انتخاب اس خطے کے عوام کے لیے بھی باعثِ فخر ہے، جس سے ریاستی سطح پر علاقائی نمائندگی کا ایک متوازن تاثر بھی ابھرتا ہے۔
ریاست جموں کشمیر کا صدارتی منصب
آزاد کشمیر کے آئین کے تحت صدر کا عہدہ ریاست کے سربراہ کی حیثیت رکھتا ہے، جو وفاقِ پاکستان اور ریاست کے درمیان ایک اہم آئینی اور سفارتی پل کا کردار ادا کرتا ہے۔
قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کے ارکان مل کر صدر کا انتخاب کرتے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ اپنے دورِ حکومت میں ایسے رہنماؤں کو اس منصب کے لیے نامزد کیا ہے جو مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور ریاست کے اندر جمہوری اقدار کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکیں۔ نجیب نقی کا انتخاب اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
نئے انتخاب کے سیاسی منظر نامے پر اثرات
مسلم لیگ ن کی صفوں میں اتحاد اور آزاد کشمیر میں ان کی مستحکم سیاسی پوزیشن کا واضح مظہر ہے۔ ایک سینیئر اور غیر متنازع شخصیت کے صدر بننے سے آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام پیدا ہوگا اور حکومت کو اپنے ترقیاتی اہداف کے حصول میں آسانی ہوگی۔
مزید برآں پونچھ جیسے اہم خطے سے تعلق رکھنے کی بنا پر، نومنتخب صدر لائن آف کنٹرول کے اطراف بسنے والے عوام کے مسائل اور جذبات کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔
توقع ہے کہ وہ بطور ریاست کے 45 ویں آئینی سربراہ، کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے حصول اور عالمی فورمز پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف ایک مضبوط اور توانا آواز بن کر ابھریں گے۔