وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ریاست کی حاکمیت، شہروں اور دارالحکومت کے تحفظ اور شہریوں کے جان و مال کی سلامتی کی باری آئے گی تو حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ جب رِٹ آف دی اسٹیٹ کی باری آئے گی، شہروں اور دارالحکومت کے تحفظ اور لوگوں کے جان و مال کی سلامتی کی باری آئے گی تو ’’ان کا مکو ٹھپنا پڑا تو ٹھپیں گے‘‘۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت انہیں اس بات کی کھلی چھوٹ دے دے کہ وہ آئیں اور شاہراہوں پر توڑ پھوڑ کریں؟
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پچھلی بار بھی سپریم کورٹ نے انہیں آنے سے منع کیا تھا، لیکن انہوں نے لاعلمی کا بہانہ بنایا اور میٹرو اسٹیشن سمیت درختوں تک کو آگ لگا دی۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر درختوں کو آگ لگانے کا کیا مقصد ہوتا ہے؟
انہوں نے اسے ’’موب مینٹیلٹی‘‘ یعنی ہجوم والی ذہنیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اپنے شہروں اور شہریوں کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے اور خواہ کچھ بھی ہو جائے، اس کے لیے مکمل انتظامات کیے جائیں گے اور انہیں ’’پھڑکنے نہیں دیں گے‘‘۔
عطاء اللہ تارڑ کے حالیہ بیانات میں بھی اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھنے اور سڑکوں کی آمدورفت متاثر نہ ہونے دینے پر زور دیا گیا ہے۔ 21 ستمبر کو ان کا کہنا تھا کہ کسی پرتشدد گروہ کو اسلام آباد کی طرف مارچ نہیں کرنے دیا جائے گا اور سڑکیں بند کرنے یا امن و امان میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔