اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے مقدمات کی جلد سماعت اور زیرِ التوا کیسز نمٹانے کے لیے وکلا کے دلائل کا دورانیہ 10 منٹ تک محدود کر دیا ہے، جبکہ عدالتی کارروائی کے دوران وقت کی پابندی یقینی بنانے کے لیے کمرہ عدالت میں اسٹاپ واچ بھی نصب کر دی گئی ہے۔
نئے انتظام کے تحت ہر وکیل کو اپنے دلائل پیش کرنے کے لیے 10 منٹ دیے جائیں گے اور مقررہ وقت مکمل ہونے پر کمرہ عدالت میں نصب اسٹاپ واچ بیپ کی آواز کے ذریعے وقت پورا ہونے کی نشاندہی کرے گی۔
چیف جسٹس امین الدین خان کا کہنا ہے کہ وکلا کے دلائل کے لیے مخصوص وقت مقرر کرنے سے مقدمات کی سماعت میں تیزی آئے گی اور کیسز جلد نمٹانے میں مدد ملے گی۔
عدالت کے مطابق وکلا کے دلائل کے لیے مقررہ 10 منٹ کا نظام کیس مینجمنٹ کو بہتر بنانے اور عدالتی کارروائی کو تیز کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود اعداد و شمار کے مطابق عدالت میں اس وقت 23 ہزار 409 مقدمات زیر التوا ہیں، جبکہ 5 ہزار 869 مقدمات نمٹائے جا چکے ہیں اور 5 ہزار 723 نئے مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔ عدالت کی ویب سائٹ ان اعداد و شمار کو عدالتی کارروائی کی کارکردگی سے متعلق اعداد و شمار کے طور پر ظاہر کرتی ہے۔
عدالت نے کیس مینجمنٹ اور عوام کو عدالتی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی ادارہ جاتی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
چیف جسٹس کی زیر صدارت فل کورٹ اجلاس
15 ستمبر کو چیف جسٹس امین الدین خان کی زیر صدارت وفاقی آئینی عدالت کا فل کورٹ اجلاس بھی ہوا، جس میں عدالت کے پہلے 10 ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں عدالتی، انتظامی اور آپریشنل امور پر غور کیا گیا، جبکہ کیس مینجمنٹ کو مؤثر بنانے اور عوام کو بہتر عدالتی سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وفاقی آئینی عدالت کی سرکاری ویب سائٹ پر 15 ستمبر 2026 کو فل کورٹ اجلاس سے متعلق پریس ریلیز بھی موجود ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کا قیام
وفاقی آئینی عدالت کا قیام 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نومبر 2025 میں عمل میں آیا اور عدالت نے 13 نومبر 2025 سے اپنے آئینی فرائض انجام دینا شروع کیے۔
وفاقی آئینی عدالت کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق جسٹس امین الدین خان نے 14 نومبر 2025 کو عدالت کے پہلے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔
چیف جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے قبل تقریباً 6 سال سپریم کورٹ کے جج رہے، جبکہ اس کے بعد انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ہونے والے آئینی بینچ کی سربراہی بھی کی۔
سپریم کورٹ میں تعیناتی سے قبل جسٹس امین الدین خان 2011 سے 2019 تک لاہور ہائی کورٹ کے جج رہے۔
جسٹس امین الدین خان نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق فوجی عدالتوں میں زیر سماعت سویلینز کے مقدمات سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے 6 رکنی بینچ کی سربراہی بھی کی۔
ملتان سے تعلق رکھنے والے جسٹس امین الدین خان نے 1987 میں ہائی کورٹ کے وکیل کی حیثیت سے وکالت شروع کی اور 2001 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔ وکالت کے دوران ان کی پریکٹس کا بنیادی شعبہ سول مقدمات رہا۔
وفاقی آئینی عدالت کی موجودہ ویب سائٹ پر کیس سرچ، کاز لسٹ، فیصلوں اور دیگر عدالتی خدمات کے لیے آن لائن سہولیات بھی دستیاب ہیں، جبکہ عدالت نے عدالتی خدمات کو تیز، شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے ای سروسز کو بھی ادارہ جاتی نظام کا حصہ بنایا ہے۔