اگر آپ آج اسلام آباد، راولپنڈی، ٹیکسلا، اٹک یا خیبر پختونخوا کی جانب سفر کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ خبر پڑھے بغیر گھر سے نہ نکلیں، کیونکہ نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس (NHMP) نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر متعدد اہم راستے بند یا محدود کر دیے ہیں۔
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے مسافروں کو سفر سے قبل تازہ ترین ٹریفک صورتحال معلوم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
کون سی موٹرویز اور ہائی ویز متاثر ہیں؟
تازہ ترین NHMP ایڈوائزری کے مطابق خیبر پختونخوا اور شمالی پنجاب کو اسلام آباد سے ملانے والے کئی بڑے راستے فی الحال بند ہیں ، ایم ون پشاور موٹروے صوابی سے اسلام آباد ٹول پلازہ تک دونوں اطراف سے بند کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ای 35 ہزارہ موٹروے جھاری کس سے برہان تک، جبکہ ایم 14 سی پیک روٹ حکلہ سے یارک تک ٹریفک کیلئے بند ہے۔
جی ٹی روڈ این فائیو پر اٹک خورد کے مقام پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، ایم ٹو موٹروے پر اسلام آباد کی جانب کوٹ مومن سے بھاری گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ہے، البتہ ہلکی گاڑیاں مقامی پابندیوں کے تحت سفر کر سکتی ہیں۔
اسلام آباد شہر کے اندر کیا صورتحال ہے؟
شہر کے اندرونی راستے فی الحال کھلے ہیں، تاہم سیکیورٹی انتظامات نمایاں طور پر سخت کر دیے گئے ہیں ، فیض آباد، مری روڈ، چھبیس نمبر چونگی، ترنول، روات ٹی چوک اور ریڈ زون کے داخلی راستوں کے اطراف صورتحال کسی بھی وقت تبدیل ہو سکتی ہے۔ ٹیکسلا اور اٹک کو ملانے والے رابطہ راستے بھی حساس علاقوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
ایئرپورٹ جانے والے مسافروں کیلئے خاص ہدایت
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ جانے والے مسافروں، خاص طور پر جو راولپنڈی، ٹیکسلا یا خیبر پختونخوا کی جانب سے سفر کر رہے ہیں، انہیں روانگی سے پہلے تازہ ترین روڈ سٹیٹس ضرور چیک کرنے اور معمول سے کہیں زیادہ وقت لے کر نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے، تاکہ فلائٹ مس ہونے کا خطرہ نہ رہے۔
مسافروں کیلئے احتیاط کی ہدایت
کا کہنا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، ٹیکسلا، اٹک اور خیبر پختونخوا کی جانب غیر ضروری سفر مؤخر کیا جائے۔ روانگی سے قبل NHMP کی تازہ ترین ایڈوائزری دیکھنا نہ بھولیں، اور متبادل راستے اختیار کرتے وقت وقت سے پہلے نکلیں ، سفر کے دوران شناختی دستاویزات اور ڈرائیونگ لائسنس ہمراہ رکھنا بھی ضروری ہے، جبکہ کسی بھی صورت میں روڈ بلاکس یا بند راستوں کو زبردستی عبور کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔
صورتحال میں کسی بھی وقت تبدیلی آ سکتی ہے، اس لیے مسافروں کو مسلسل اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔