عراق سے امریکی فوج کے مکمل انخلا کی حتمی تاریخ مقرر کردی گئی بغداد حکومت کے مطابق 30 ستمبر 2026 تک عراق میں موجود باقی ماندہ امریکی فوجی بھی ملک سے نکل جائیں گے اس کے ساتھ ہی عراق میں امریکی قیادت میں داعش مخالف عالمی اتحاد کا فوجی مشن باضابطہ طور پر اختتام پذیر ہوجائے گا۔
عراقی حکومت نے 30 ستمبر کو امریکی قیادت میں قائم عالمی اتحاد کے فوجی مشن کے خاتمے اور اتحادی افواج کے انخلا کی مقررہ اور حتمی تاریخ قرار دیا ہے۔ امریکی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ فوجی انخلا مقررہ شیڈول کے مطابق جاری ہے اور 30 ستمبر تک تمام امریکی فوجیوں کے عراق سے نکلنے کی توقع ہے۔
امریکی فوج کا عراق سے انخلا مرحلہ وار جاری ہے زیادہ تر امریکی فوجی پہلے ہی عراق کے مختلف فوجی اڈوں سے نکل چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ اہلکار بالخصوص عراق کے شمالی خودمختار کردستان خطے میں موجود تھے۔ حالیہ ہفتوں میں وہاں سے بھی امریکی قیادت میں اتحادی افواج اور سازوسامان کی منتقلی شروع کردی گئی ہے۔
داعش مخالف مشن کا خاتمہ
عراق میں امریکی فوجی موجودگی کا موجودہ مرحلہ بنیادی طور پر داعش کے خلاف امریکی قیادت میں قائم عالمی اتحاد کے مشن سے منسلک تھا۔ یہ اتحاد 2014 میں داعش کے عراق اور شام کے بڑے علاقوں پر قبضے کے بعد تشکیل دیا گیا تھا۔
عراق نے دسمبر 2017 میں اعلان کیا تھا کہ اس نے اپنی سرزمین کو داعش کے قبضے سے مکمل طور پر آزاد کرا لیا ہے تاہم تنظیم کی محدود کارروائیاں اس کے بعد بھی جاری رہیں۔ امریکی اور عراقی حکومتوں نے 2024 میں ایک مرحلہ وار منصوبے پر اتفاق کیا تھا جس کے تحت عراق میں اتحادی افواج کے فوجی مشن کو ختم کرکے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ سکیورٹی تعاون کی جانب منتقل ہونا تھا۔
اس منصوبے کے تحت اتحادی افواج نے عراق کے مختلف علاقوں سے انخلا شروع کیا اور متعدد فوجی تنصیبات عراقی سکیورٹی فورسز کے حوالے کردی گئیں جنوری 2026 میں عین الاسد ایئر بیس سے امریکی فوجی انخلا اور اڈے کی عراقی حکام کو حوالگی بھی اسی عمل کا حصہ تھی۔
30 ستمبر کے بعد کیا ہوگا؟
عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکی قیادت میں اتحادی فوجی مشن ختم ہونے کے بعد ملک کی سکیورٹی کی بنیادی ذمہ داری عراقی سکیورٹی فورسز کے پاس ہوگی۔ تاہم بغداد اور واشنگٹن کے درمیان تعاون مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا بلکہ سکیورٹی، انٹیلی جنس، معلومات کے تبادلے اور دفاعی شعبے میں دوطرفہ تعاون جاری رکھنے کا منصوبہ ہے۔
امریکی حکام کے مطابق انخلا کو عراق کے سکیورٹی اداروں کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ واشنگٹن نے عراقی حکومت کے ساتھ مستقبل میں انسداد دہشت گردی اور سکیورٹی تعاون جاری رکھنے کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
2003 سے شروع ہونے والے فوجی باب کا اختتام
عراق سے امریکی فوج کا موجودہ انخلا محض داعش مخالف مشن کے خاتمے تک محدود نہیں بلکہ یہ 2003 میں شروع ہونے والی امریکی فوجی موجودگی کے ایک بڑے باب کے اختتام کی بھی علامت ہے۔
امریکا نے 2003 میں عراق پر حملہ کیا تھا اور بعد میں بڑی تعداد میں فوجی وہاں تعینات کیے گئے۔ 2011 میں امریکی فوج کا بڑا انخلا ہوا، تاہم 2014 میں داعش کے خلاف کارروائی کے لیے امریکی فوج دوبارہ عراق واپس آئی اور امریکی قیادت میں عالمی اتحاد قائم کیا گیا۔
حالیہ برسوں میں امریکی فوجیوں کی تعداد نمایاں طور پر کم ہوچکی تھی اور عراق کے بیشتر علاقوں سے انخلا مکمل کیا جاچکا تھا۔ اب آخری مرحلے میں کردستان کے علاقے سے بھی فوجی انخلا جاری ہے۔
عراق کے لیے نیا سکیورٹی مرحلہ
امریکی فوج کے مکمل انخلا کے بعد عراق ایک نئے سکیورٹی مرحلے میں داخل ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بغداد کے لیے اہم چیلنج یہ ہوگا کہ وہ داخلی سکیورٹی، دہشت گردی کے خطرے اور ملک میں موجود مختلف مسلح گروہوں کے معاملے کو کس طرح سنبھالتا ہے۔
عراقی حکومت کی جانب سے تمام ہتھیار ریاستی کنٹرول میں لانے کی پالیسی بھی اسی نئے مرحلے کا اہم حصہ ہے۔ دوسری جانب عراق کے کردستان خطے میں امریکی فضائی دفاعی نظام کے انخلا کے بعد ممکنہ سکیورٹی خلا پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
یوں 30 ستمبر 2026 عراق کی جدید تاریخ میں ایک اہم تاریخ بننے جارہی ہے، جب امریکی قیادت میں داعش مخالف عالمی اتحاد کا فوجی مشن باضابطہ طور پر ختم ہوگا اور عراق میں سکیورٹی کی ذمہ داری مزید واضح طور پر ملکی اداروں کے ہاتھ میں منتقل ہوجائے گی، جبکہ واشنگٹن اور بغداد کے درمیان اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کا ایک نیا مرحلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔