انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کے وکالت نامے فراہم نہ کرنے اور عدالتی حکم کے باوجود دونوں کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش نہ کرنے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے وضاحت طلب کی ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر کیوں نہ انہیں چھ ماہ کی سزا دی جائے۔
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی جانب سے ضمانت کی درخواستیں دائر کرنے کے لیے وکالت نامے فراہم نہ کیے جانے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران اڈیالہ جیل حکام کی جانب سے دونوں ملزمان کے وکالت نامے دستخط کروا کر عدالت کو فراہم نہیں کیے گئے۔
عدالت میں جیل حکام کی جانب سے کوئی نمائندہ بھی پیش نہ ہوا، تاہم ایمان مزاری کی والدہ شیریں مزاری سمیت متعدد وکلا عدالت میں موجود تھے۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ عدالتی حکم کے باوجود ایمان مزاری اور ہادی علی کو ویڈیو لنک کے ذریعے بھی پیش نہیں کیا جاسکا۔ جیل حکام کی جانب سے اس کی وجہ انٹرنیٹ کا مسئلہ بتائی گئی۔
جیل حکام کے اس مؤقف پر جج طاہر عباس سپرا نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ سپرنٹنڈنٹ جیل وضاحت کریں کہ عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر کیوں نہ انہیں چھ ماہ کی سزا دی جائے۔ عدالت نے جیل حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کو دیوار سے نہ لگائیں اور خود کو بھی مشکل میں نہ ڈالیں۔
سماعت کے دوران عدالتی عملے نے بتایا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی کو تاحال ویڈیو لنک کے ذریعے پیش نہیں کیا جارہا اور جیل حکام انٹرنیٹ کے مسئلے کی نشاندہی کررہے ہیں۔
جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ ایک مقدمے میں بھی انٹرنیٹ کا مسئلہ سامنے آیا تھا اور جیل حکام کی جانب سے بار بار نیٹ ورک درست نہ ہونے کی شکایت کی جارہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پی ٹی سی ایل اور این ٹی سی کو ہدایت کی گئی تھی کہ ماہرین کو جیل بھیجا جائے، جبکہ ہری پور سے بھی ماہرین بھیجنے کا حکم دیا گیا تھا۔
عدالت نے واضح کیا کہ ملزم کو وکیل مقرر کرنے اور وکالت نامہ فراہم کرنے کا حق بنیادی قانونی حق ہے، اس لیے وکالت نامے فراہم نہ کرنا معمولی معاملہ نہیں۔
کیس کی سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی کی جانب سے ضمانت کی درخواستیں دائر کرنے کے لیے درکار وکالت ناموں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، تاہم جیل حکام کی جانب سے مطلوبہ دستاویزات عدالت کو فراہم نہ کی جاسکیں۔
بعد ازاں انسداد دہشت گردی عدالت نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا اور کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایمان مزاری اور ہادی علی کی سزاؤں سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت رہ چکا ہے، جبکہ ان کی گرفتاری اور رہائی کے حوالے سے بھی قانونی کارروائی جاری رہی ہے۔
