پولیس سے ٹکراؤ کے بعد بیوروکریسی پر دباؤ؟ خیبر پختونخوا اسمبلی کی ترامیم نے اختیارات کی تقسیم کا سوالات اٹھا دیئے۔ خیبر پختونخوا میں قانون سازی کے ذریعے ارکانِ اسمبلی کو دیے گئے بعض اضافی اختیارات پر اختیارات کی تقسیم، انتظامی معاملات میں سیاسی مداخلت اور ارکانِ اسمبلی کے لیے مراعات سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق ترامیم میں سیکشن 8، 9، 11 اور 13 خصوصی طور پر زیرِ بحث ہیں، جن کے تحت ارکانِ اسمبلی کو ضلعی افسران کی طلبی، سرکاری اجلاسوں کی صدارت، گرفتاری کے معاملے میں اسپیکر کی پیشگی اجازت اور تاحیات مفت پاسپورٹ سے متعلق اختیارات یا مراعات دی گئی ہیں۔
سیکشن 8 کے حوالے سے فراہم کردہ معلومات میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ارکانِ اسمبلی اپنے حلقے میں کسی بھی ضلعی افسر کو طلب کر سکتے ہیں اور متعلقہ افسر کو پیش ہونا ہوگا۔ اس شق پر یہ اعتراض سامنے آیا ہے کہ اس سے ارکانِ اسمبلی کو انتظامی امور میں براہِ راست مداخلت کا اختیار حاصل ہوتا ہے اور بیوروکریسی پر سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
سیکشن 9 کے تحت کسی رکنِ اسمبلی کی موجودگی میں سرکاری محکموں، انتظامی اداروں اور خود مختار باڈیز کے اجلاسوں کی صدارت کا اختیار بھی رکن کو حاصل ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم گورنر یا وزیر کی موجودگی کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ فراہم کردہ مؤقف کے مطابق اس شق سے انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کے اختیارات کی تقسیم سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
سیکشن 11 کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پولیس کو کسی رکنِ اسمبلی کی گرفتاری سے قبل اسپیکر سے پیشگی اجازت لینا ہوگی، جبکہ چالان پیش کیے جانے سے قبل اسپیکر انکوائری شروع کروا سکتے ہیں۔ اس شق کو ارکانِ اسمبلی کے خلاف فوجداری کارروائی اور احتساب کے عمل سے متعلق ایک خصوصی قانونی تحفظ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
اسی طرح سیکشن 13 کے تحت رکنِ اسمبلی اور اس کے شریکِ حیات کو تاحیات مفت (Gratis) پاسپورٹ کی سہولت فراہم کیے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس معاملے پر فراہم کردہ معلومات میں عوامی وسائل کے استعمال اور منتخب نمائندوں کو حاصل مراعات کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
فراہم کردہ مؤقف کے مطابق ان ترامیم کو انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ریاستی وسائل کے حوالے سے ارکانِ اسمبلی کے اختیارات میں اضافے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض شقیں اختیارات کی تقسیم اور انتظامی خودمختاری کے اصولوں سے متعلق بحث کو جنم دیتی ہیں۔