شہری ہوشیار، اسلام آباد زون 4 کی 9 ہاوسنگ سکیمیں غیر قانونی قرار، دفاتر سیل کرنے کا حکم

شہری ہوشیار، اسلام آباد زون 4 کی 9 ہاوسنگ سکیمیں غیر قانونی قرار، دفاتر سیل کرنے کا حکم

کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے پلاننگ ونگ، ڈائریکٹوریٹ آف ریجنل پلاننگ نے اسلام آباد کے زون 4 میں بغیر منظوری قائم کی جانے والی 9 ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے ان کے سائٹ، منیجمنٹ اور مارکیٹنگ دفاتر فوری طور پر سیل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

سی ڈی اے کے جاری کردہ سرکاری مراسلوں کے مطابق زون 4 میں قائم باقر شاہ ہاؤسنگ سکیم، جو ایئر فاؤنڈیشن سکول کے مخالف لہتراڑ روڈ زون 4/سی میں واقع ہے، اسلام آباد گرین پیراڈائز جو اسلام آباد ایکسپریس وے سروس روڈ کورال زون 4/بی میں قائم ہے، گرین ہومز/ویلی جو کرور روڈ زون 4/ڈی میں واقع ہے اور نیلور ہومز جو لہتراڑ روڈ زون 4/ڈی میں قائم ہے، غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں میں شامل ہیں۔

اسی طرح لہتراڑ سملی ڈیم لنک روڈ زون 4/ڈی پر قائم الامین گارڈن فیز 1، لہتراڑ روڈ تمیر لنک روڈ زون 4/ڈی پر قائم راول اینکلیو، سملی ڈیم لنک روڈ زون 4/ڈی پر واقع اتفاق ریذیڈنسی اور بلیو اینکلیو جبکہ پارک اینکلیو کے قریب کڑی روڈ زون 4 میں قائم اسلام آباد ولاز/ولیج کو بھی سی ڈی اے کی جانب سے غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

سرکاری مراسلوں کے مطابق مذکورہ ہاؤسنگ سکیموں کے پاس منظور شدہ لے آؤٹ پلان اور این او سی موجود نہیں، اس کے باوجود وہاں ترقیاتی کام، مارکیٹنگ اور پلاٹوں کی خرید و فروخت کی سرگرمیاں جاری تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے سب سے بڑے پمز ہسپتال سے متعلق خبر نے سب کو حیران کر دیا

سی ڈی اے حکام کے مطابق سی ڈی اے آرڈیننس 1960، آئی سی ٹی (زوننگ) ریگولیشن 1992 اور پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیمز ریگولیشنز 2023 کے تحت اسلام آباد میں اتھارٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر کوئی بھی نجی اسپانسر ہاؤسنگ سکیم، اپارٹمنٹ یا تجارتی منصوبہ لانچ یا تیار نہیں کرسکتا۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کو پہلے ہی نوٹسز اور شوکاز نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ قومی اخبارات اور سی ڈی اے کی ویب سائٹ کے ذریعے بھی عوام کو ان سکیموں کے حوالے سے خبردار کیا گیا تھا۔ تاہم اس کے باوجود سکیموں کے مالکان نے سی ڈی اے سے مطلوبہ این او سی اور بلڈنگ پلانز کی منظوری حاصل نہیں کی۔

سی ڈی اے نے پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیمز ریگولیشنز 2023 کی کلاز 42-4 کے تحت ڈائریکٹر انفورسمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ مجسٹریٹ کی موجودگی میں مذکورہ سکیموں کے ڈویلپرز، اسپانسرز، رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اور مارکیٹنگ پارٹنرز کے دفاتر سربمہر کیے جائیں۔

اتھارٹی نے عام شہریوں اور سرمایہ کاروں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ مذکورہ غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں میں سرمایہ کاری، پلاٹوں کی خرید و فروخت یا الاٹمنٹ سے گریز کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ مالی نقصان یا دھوکہ دہی سے بچا جا سکے۔

Related Articles