ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان ) میں خودکش حملے کے زخمیوں کی عیادت کے لیے شدید تنقید کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے تاخیر سے دورے پر شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے، اسپتال میں وی آئی پی پروٹوکول اور عام مریضوں کے لیے دروازے بند ہونے پر غضبناک شہریوں نے اسے محض ہمدردی کا دکھاوا اور ایک ’ٹک ٹاک شو‘ قرار دے دیا۔
’بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے‘ کے مصداق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو خودکش حملے کے زخمیوں کا خیال اس وقت آیا جب ان پر ہر جانب سے شدید تنقید کی جا رہی تھی۔
ایک پورا دن گزر جانے کے بعد جب وہ بالآخر ڈی آئی خان کے مقامی اسپتال پہنچے، تو عوام نے ان کی اس تاخیر اور ہمدردی کو یکسر مسترد کر دیا۔ شہریوں نے واضح کیا کہ حکومتی شخصیات کی یہ آمد محض ایک سیاسی دکھاوا ہے۔
مریضوں کی خواری اور اسپتال کی بندش
وزیراعلیٰ کی آمد کے موقع پر اسپتال میں سخت وی آئی پی پروٹوکول نافذ کر دیا گیا۔ سہیل آفریدی، جن کے ہمراہ علی امین گنڈاپور بھی موجود تھے، کے اسپتال میں داخل ہوتے ہی دیگر تمام مریضوں اور ان کے تیمارداروں کے لیے داخلی دروازے مکمل طور پر بند کر دیے گئے۔
اس غیر ضروری اور سخت پروٹوکول کے باعث عام مریضوں کو شدید خواری کا سامنا کرنا پڑا اور اسپتال کا نظام بری طرح درہم برہم ہو گیا۔
شہریوں کا شدید ردعمل
عوام اور اسپتال میں موجود تیمارداروں نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے اس طرزِ عمل پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
غصے سے بھرے شہریوں کا کہنا تھا کہ خودکش حملے میں شدید زخمی ہونے والے افراد پہلے ہی بے یار و مددگار پڑے ہیں اور فوری علاج کے لیے ترس رہے ہیں۔
ایسے میں پروٹوکول کے باعث زخمیوں کے علاج میں مزید مشکلات پیدا کی گئیں۔ عوام نے اس دورے کو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی ہمدردی نہیں، بلکہ محض ’ٹک ٹاکس‘ بنوانے اور سستی شہرت حاصل کرنے کا ایک بے حس طریقہ ہے۔
شہریوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کون سی ہمدردی ہے، یہ تو محض دکھاوا اور شہریوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے؟ کیا ہمدردی ایسی ہوتی ہے کہ ایک دن گزر جانے کے بعد حاضر ہوں تو پورے لاؤ لشکر کے ساتھ آئیں اور اسپتال میں مریضوں کا داخلہ تک بند کر دیں۔
واضح رہے کہ ڈی آئی خان میں گزشتہ روز ایک افسوسناک خودکش حملہ ہوا تھا جس میں متعدد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور بڑی تعداد میں شہری زخمی ہوئے تھے۔
اس نوعیت کے سانحات کے بعد عوام بجا طور پر یہ توقع کرتے ہیں کہ ریاست اور حکومتی نمائندے فوری طور پر ان کے دکھ کا مداوا کریں گے۔
تاہم صوبائی حکومت خصوصاً وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے ابتدائی خاموشی اور پھر تاخیر سے کیے گئے اس دورے نے عوامی سطح پر شدید بداعتمادی کو جنم دیا ہے۔
حکومتی عہدیداروں کی جانب سے سانحات کے بعد اسپتالوں کے دورے عموماً عوام کی داد رسی اور نظام کی کارکردگی جانچنے کے لیے کیے جاتے ہیں، لیکن جب یہ دورے وی آئی پی کلچر اور پروٹوکول کی بھینٹ چڑھ جائیں تو ان کا بنیادی مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
حساس مواقع پر اسپتالوں کے دروازے بند کر دینا انتظامیہ کی انتہائی غیر پیشہ ورانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ سکیورٹی خدشات اپنی جگہ اہم ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی آڑ میں ان مریضوں کو علاج سے محروم کرنا جو موت اور حیات کی کشمکش میں مبتلا ہوں، کسی بھی مہذب معاشرے کے شایانِ شان نہیں۔
عوام کا یہ شدید ردعمل اس بات کا غماز ہے کہ باشعور شہری زمینی حقائق کو بخوبی سمجھتا ہے اور وہ اب محض تصویری سیشنز یا سیاسی ہمدردی کے کھوکھلے دعوؤں سے مطمئن ہونے والا نہیں۔
حکمرانوں کو احساس کرنا ہوگا کہ حقیقی ہمدردی پروٹوکول کے حصار میں نہیں، بلکہ عوام کے دکھ میں برابری کی سطح پر شریک ہونے میں ہے۔