رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے ویڈیو پیغام میں ان کے خلاف عدم اعتماد کی ممکنہ کارروائی سے متعلق اپنے مؤقف کی وضاحت کردی۔
شیر افضل مروت نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف عدم اعتماد اس وقت لائی جائے گی جب وہ وزارتِ اعلیٰ کی کرسی پر ڈٹ جانے کا فیصلہ کریں گے اور عہدے سے نکلنے کے لیے منت سماجت کریں گے۔
انہوں نے عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’خان نے ان کو نہیں چھوڑنا‘‘۔ شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ 27 ستمبر کے لیے 11 ماہ سے تیاری نہیں تھی تو 4 اکتوبر کے لیے 5 دنوں میں کیا تیاری ہوگی۔
دوسری جانب شیر افضل خان مروت نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات بھی کی۔
ملاقات میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سردار فتح اللہ خان میاں خیل، این ڈی ایم کے سربراہ محسن داوڑ، رکن صوبائی اسمبلی ارباب زرک خان خلیل اور ہلال احمر خیبر پختونخوا کے چیئرمین فرزند علی وزیر بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔