وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بدامنی اور لوٹ مار عروج پر ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا واحد ہدف صوبے کو لوٹنا اور بانی پی ٹی آئی کو رہا کرانا ہے۔
پیر کو پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر مقام نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی کی لوٹ مار اور 13 سالہ تباہ کن کارکردگی پر جلد ’وائٹ پیپر‘ جاری کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے پشاور میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو صرف 2 ٹاسک سونپے گئے ہیں، ایک صوبے کے وسائل کو بے دردی سے لوٹنا اور دوسرا بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے تگ و دو کرنا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ عوام کو مکمل طور پر لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے اور صحت کارڈ جیسے عوامی بہبود کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر گھپلے سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث تمام سرکاری شعبے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
امیر مقام نے کہا کہ سہیل آفریدی ناکام ہو چکے ہیں، صوبے میں گورنر راج کے لیے تمام لوازمات پورے ہو چکے ہیں، سہیل آفریدی کا اب آگے چلنا مشکل ہو گیا ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی بہت اچھا کام کر رہے ہیں انہیں ہٹانے کی کوئی بات نہیں ہو رہی ہے۔
13 سالہ اقتدار اور ’وائٹ پیپر‘ کا اعلان
امیر مقام نے صوبے کی سیاسی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کو مسلسل بھاری مینڈیٹ دیا، لیکن 13 سالہ اقتدار کے باوجود عوام کی قسمت بدلنے کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔
ان کے بقول ’تبدیلی سرکار‘ کے اس طویل دور میں صرف وزرا کے قلمدان تبدیل کیے جاتے رہے جبکہ عوامی مسائل جوں کے توں رہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت پی ٹی آئی کے اس 13 سالہ دورِ حکومت کی بدانتظامی، معاشی تباہی اور ناکامیوں کا پردہ چاک کرنے کے لیے جلد ایک جامع ’وائٹ پیپر‘ منظرِ عام پر لائے گی۔
بدامنی اور ’نو گو ایریاز‘ کا چیلنج
وفاقی وزیر نے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو سب سے بڑا اور سنجیدہ مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام ایک طویل عرصے سے دہشتگردی اور بدامنی کی آگ میں جھلس رہے ہیں۔ حکومتی غفلت اور عدم توجہی کے باعث خیبر پختونخوا کے متعدد علاقے اب ’نو گو ایریاز‘ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پورا پاکستان دیکھ رہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے غیور عوام ملک کے امن کی خاطر کتنی بڑی قربانیاں دے رہے ہیں، لہٰذا وہاں پائیدار امن کے قیام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
خیبر پختونخوا کی سیاسی کشمکش اور حکومتی چیلنجز
خیبر پختونخوا میں گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تحریکِ انصاف اقتدار میں ہے، جہاں اسے عوامی سطح پر مقبولیت تو حاصل رہی لیکن صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان کشیدگی نے انتظامی امور کو شدید متاثر کیا ہے۔
ماضی میں بھی صوبے کو امن و امان، سیکیورٹی اخراجات اور مالیاتی وسائل کے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ وفاق اور صوبے کے درمیان موجود سیاسی کھینچا تانی کے باعث ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار رہے ہیں اور صحت کی دیکھ بھال سے لے کر انفراسٹرکچر تک کی بہتری میں رکاوٹیں پیش آتی رہی ہیں۔
صوبائی نظم و نسق کا معروضی جائزہ
خیبر پختونخوا کے موجودہ انتظامی اور سیکیورٹی بحران کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ سیاسی انتشار اور انتظامی کمزوریوں نے صوبے کے بنیادی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ایک طرف جہاں صوبائی قیادت کا زیادہ تر فوکس سیاسی بیانیے اور وفاق سے تصادم پر مرکوز ہے، وہی دوسری جانب گورننس میں خلا پیدا ہونے سے انتہا پسند عناصر کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع ملا ہے۔
صحت اور تعلیم جیسے حساس شعبوں میں شفافیت کی عدم موجودگی عوام میں مایوسی پھیلا رہی ہے۔ اگر حکومت نے اپنے سیاسی ترجیحات سے بالاتر ہو کر بدامنی کے سدباب اور انتظامی شفافیت پر توجہ نہ دی تو یہ سیاسی و معاشی بحران صوبے کو مزید گہری دلدل میں دھکیل سکتا ہے۔