زمین تیزی سے گھومنے لگی، 2029 میں وقت کے حساب میں بڑی تبدیلی کا امکان

زمین تیزی سے گھومنے لگی، 2029 میں وقت کے حساب میں بڑی تبدیلی کا امکان

کیا زمین پر ایک دن ہمیشہ پورے 24 گھنٹے کا ہوتا ہے؟ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے، لیکن سائنسی طور پر زمین کی گردش کی رفتار مسلسل معمولی تبدیلیوں سے گزرتی رہتی ہے، جس کے باعث دن کے دورانیے میں ملی سیکنڈز کی سطح پر فرق پیدا ہوتا ہے۔

حالیہ تحقیق کے مطابق بعض اوقات زمین اپنے محور پر معمول سے قدرے تیزی سے گردش کرتی ہے، جس کے نتیجے میں دن کا دورانیہ 24 گھنٹے سے چند ملی سیکنڈ کم ہوسکتا ہے۔

زمین کی رفتار میں تبدیلی کیوں آتی ہے؟

سائنس دانوں کے مطابق زمین کی گردش کی رفتار پر کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان میں زمین کے اندرونی حصوں کی حرکت، برف کے پگھلنے سے کمیت کی تقسیم میں تبدیلی اور ال نینو جیسے عالمی ماحولیاتی عوامل شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسٹار شپ نے مدار میں پہنچ کر ریکارڈ بنایا، زمین پر واپسی کے دوران تباہ

زمین کے بیرونی مرکزے میں موجود انتہائی گرم مائع دھات مسلسل حرکت کرتی رہتی ہے۔ اس حرکت کے نتیجے میں زمین کی گردش کی رفتار میں معمولی تیزی یا سست روی پیدا ہوسکتی ہے۔

زمین کے اندر چھپا ’پوشیدہ گیئر‘

یونیورسٹی آف البرٹا کے ماہر ارضیات میتھیو ڈمبرّی کے مطابق زمین کے اندرونی مرکزے کی گردش اور مینٹل میں موجود بے قاعدگیوں کے درمیان کشش ثقل کا تعلق زمین کی گردش کی رفتار میں معمولی تبدیلیاں پیدا کرسکتا ہے۔

معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے زمین کے اندر کشش ثقل کے ایک ایسے میکانزم کی نشاندہی کی ہے جسے انہوں نے ایک طرح کے ’پوشیدہ گیئر‘ سے تشبیہ دی ہے۔

تحقیق کے مطابق زمین کا اندرونی مرکزہ باقی زمین کے مقابلے میں بالکل ایک ہی رفتار سے گردش نہیں کرتا۔ اس فرق کے باعث اندرونی مرکزہ مینٹل میں موجود کمیت کی بعض بے قاعدگیوں کے ساتھ کشش ثقل کے ذریعے تعامل کرتا ہے، جس سے زمین کی مجموعی گردش متاثر ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چین مریخ کا مکمل ارضیاتی نقشہ بنائے گا، اے آئی بھی تحقیق کا حصہ ہوگی

1964 سے 2019 تک کا ڈیٹا

محققین نے 1964 سے 2019 تک کے عرصے کے دوران زلزلوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور زمین کے اندر مائع دھات کی حرکت سے متعلق سائنسی ماڈلز کا استعمال کرتے ہوئے اس کشش ثقل کے باہمی تعامل کا جائزہ لیا۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ زمین کی گردش میں معمولی تبدیلیوں کو سمجھنے میں اندرونی مرکزے اور مینٹل کے درمیان تعامل اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

کیا لیپ سیکنڈ ختم کرنا پڑے گا؟

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہر طبیعیات جوڈا لیون کے مطابق موجودہ صورتحال میں زمین کی گردش نسبتاً تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسی وجہ سے مستقبل میں وقت کو زمین کی گردش کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کے لیے لیپ سیکنڈ کم کرنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی تبدیلی ممکنہ طور پر 2029 کے آس پاس درکار ہوسکتی ہے۔

ماضی میں زمین کی گردش میں سست روی کے باعث وقت کو درست رکھنے کے لیے لیپ سیکنڈ شامل کیے جاتے رہے ہیں، تاہم زمین کی گردش میں تیزی کی صورت میں پہلی مرتبہ لیپ سیکنڈ نکالنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق دن کے دورانیے میں تبدیلی کی واحد وجہ اندرونی مرکزے اور مینٹل کا یہ تعامل نہیں۔ زمین کے ماحول، سمندروں، برفانی ذخائر اور دیگر جغرافیائی عوامل بھی اس عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

یوں ہماری روزمرہ زندگی میں 24 گھنٹے کا دن ایک مقرر پیمانہ ضرور ہے، لیکن حقیقت میں زمین کی گردش ایک مسلسل متحرک عمل ہے جس میں انتہائی معمولی تبدیلیاں بھی وقت کے حساب پر اثر ڈال سکتی ہیں۔

editor

Related Articles