ایک کروڑ روپے فیس اور زندگی کھیتوں میں! ورمونٹ کے منفرد اسکول

ایک کروڑ روپے فیس اور زندگی کھیتوں میں! ورمونٹ کے منفرد اسکول

امریکا کی ریاست ورمونٹ میں ایک ایسا منفرد اسکول موجود ہے جہاں امیر ترین خاندانوں کے بچے جدید ٹیکنالوجی اور آسائشوں سے دور رہ کر کھیتی باڑی اور سادہ زندگی کے طریقے سیکھتے ہیں۔

دی ماؤنٹین اسکول نامی اس ادارے میں طلبہ کو ایک سمسٹر کے لیے تقریباً 40 ہزار امریکی ڈالر فیس ادا کرنی پڑتی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں ایک کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔اس اسکول کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں طلبہ کو کچھ عرصے کے لیے اسمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا سے دور رکھا جاتا ہے۔

اس کے بجائے انہیں فارم پر عملی کام کرنے، فصلیں اگانے، جانوروں کی دیکھ بھال اور روزمرہ کے مختلف جسمانی کاموں میں حصہ لینے کا موقع دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی وہ چٹانیں جہاں کوہ پیماؤں کے حوصلے کا امتحان ہوتا ہے

امیر بچوں کے لیے سادہ زندگی کا تجربہ

اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو روایتی تعلیمی ماحول سے ہٹ کر عملی زندگی، محنت، خود انحصاری اور فطرت کے قریب رہنے کا تجربہ فراہم کرنا ہے۔ یہاں بچے کلاس روم تک محدود رہنے کے بجائے کھیتوں میں کام کرتے اور روزمرہ کے عملی امور میں حصہ لیتے ہیں۔

یوں یہ اسکول ایک دلچسپ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور آسائشوں میں پرورش پانے والے بچوں کو کچھ عرصے کے لیے سادہ اور محنت بھری زندگی سے روشناس کرانا ان کی شخصیت اور سوچ پر کس طرح اثر ڈال سکتا ہے۔

editor

Related Articles