پاکستان تاریخ میں پہلی بار اپنے شہری کو خلا میں بھیجنے کے قریب پہنچ گیا ہے اور ملک کے پہلے خلا باز کے نام کا اعلان اکتوبر میں متوقع ہے۔
چین کے تیان گونگ خلائی اسٹیشن کے لیے اہم مشن کی تیاریاں جاری ہیں، جس کے لیے پاکستان کے 2 امیدوار کئی ماہ سے چین میں سخت تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ اے پی پی کے مطابق زیشان علی اور خرم داؤد بیجنگ میں قائم چائنا آسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
دونوں امیدوار چینی زبان کے ساتھ ساتھ خلائی جہاز کے مختلف نظام کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ انہیں خلا میں زیرو گریوٹی کی صورتحال میں کھانے، سونے اور آلات کی مرمت سمیت مختلف عملی تربیت بھی دی جارہی ہے۔ دونوں امیدواروں کو سینٹری فیوج میں بھی تربیت دی جارہی ہے۔ وہ تجربہ کار فوجی پائلٹس ہیں اور زیادہ جی فورس برداشت کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔
زیشان علی اور خرم داؤد میں سے صرف ایک امیدوار کو حتمی طور پر خلائی مشن کے لیے منتخب کیا جائے گا۔ منتخب خلا باز چین کے تیان گونگ خلائی اسٹیشن پر تقریباً ایک ہفتہ گزارے گا، جہاں وہ پاکستانی جامعات کی جانب سے تیار کیے گئے چار بایوٹیکنالوجی تجربات مکمل کرے گا۔ ان تجربات کا تعلق غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم موضوعات سے ہے۔
مشن کب روانہ ہوگا؟
پاکستانی خلا باز کو چین کے شین ژو 24 خلائی جہاز کے ذریعے خلا میں بھیجے جانے کی توقع ہے۔ مشن کی روانگی اکتوبر 2026 کے آخر یا نومبر 2026 میں متوقع ہے۔ پاکستان کے پاس اس وقت اپنا لانچ وہیکل موجود نہیں، اس لیے یہ مشن چین کے خلائی پروگرام کے ذریعے مکمل ہوگا۔ اگر مشن طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھتا ہے تو یہ پاکستان کے خلائی سفر میں ایک تاریخی سنگ میل ہوگا۔
پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون صرف اس مشن تک محدود نہیں۔ دونوں ممالک مستقبل میں بھی مختلف خلائی منصوبوں پر تعاون کر رہے ہیں۔ اسی تعاون کے تحت تقریباً 2028 میں چانگ ای 8 مشن کے ذریعے پاکستانی قمری روور کو چاند کی سطح پر بھیجنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ یوں پاکستان کے لیے اکتوبر میں ہونے والا اعلان صرف ایک خلا باز کے انتخاب تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ملک کے خلائی تحقیق کے سفر میں ایک اہم مرحلے کی حیثیت رکھتا ہے۔