راولپنڈی کے لیے 18 ترقیاتی منصوبے منظور، سڑکوں کی تعمیر و توسیع اور سیوریج پراجیکٹس پر کام کا آغاز

راولپنڈی کے لیے 18 ترقیاتی منصوبے منظور، سڑکوں کی تعمیر و توسیع اور سیوریج پراجیکٹس پر کام کا آغاز

راولپنڈی ضلع کی تعمیر و ترقی کے لیے 6.5 ارب روپے کی لاگت سے 18 اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان منصوبوں میں سڑکوں کی بحالی، توسیع اور پانی و سیوریج کے بنیادی مسائل کا فوری حل شامل ہے۔

پنجاب ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت راولپنڈی ضلع کے لیے مجموعی طور پر 21 منصوبوں کی نشاندہی کی گئی تھی، جن کی کُل مالیت 6.5229 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔

ان میں سے 18 منصوبوں کو حتمی منظوری مل چکی ہے۔ منظور شدہ اسکیموں میں راولپنڈی میونسپل کارپوریشن کے 1.6 ارب روپے کے 9 اور ڈسٹرکٹ کونسل کے 4.8 ارب روپے کے 9 منصوبے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا کے 97 ارب روپے کے شہری ترقیاتی منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات، نیب نے 3 ٹھیکیدار اداروں کو طلب کرلیا

ان ترقیاتی کاموں کو پنجاب ہائی وے ڈیپارٹمنٹ عملی جامہ پہنائے گا جبکہ فنڈز کی فراہمی میونسپل کارپوریشن اور ڈسٹرکٹ کونسل کی ذمہ داری ہوگی۔

سڑکوں کا جال اور مخصوص علاقے

ان منصوبوں کے تحت شہر اور گردونواح میں سڑکوں کی بحالی، تعمیر اور توسیع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ جن اہم شاہراہوں کی حالت زار بہتر بنائی جائے گی ان میں خیابانِ سرسید، بوکڑا روڈ، ففتھ روڈ، راول روڈ، چاندنی چوک سے کمرشل مارکیٹ کا حصہ، ریلوے ورکشاپ روڈ اور گورڈن کالج روڈ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ تحصیل ٹیکسلا، گوجر خان، کلر سیداں اور کہوٹہ کی شاہراہوں کو بھی ان منصوبوں کا حصہ بنایا گیا ہے۔

ان ترقیاتی کاموں کی رفتار اور معیار کا جائزہ لینے کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر راولپنڈی ندیم ناصر نے کی۔

اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (سوشل سروسز) فضائل مدثر، ڈپٹی ڈائریکٹر (ڈیولپمنٹ)، منیجنگ ڈائریکٹر واسا عزیز اللہ خان سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

منیجنگ ڈائریکٹر واسا نے شرکاء کو فراہمی آب اور سیوریج کی جاری اسکیموں پر بریفنگ دی، جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیولپمنٹ نے دیگر منصوبوں کی منظوری اور پیش رفت کے حوالے سے آگاہ کیا۔

ناقص کام پر سخت کارروائی ہوگی

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ندیم ناصر نے واضح ہدایات جاری کیں کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کی بروقت، شفاف اور اعلیٰ معیار کے مطابق تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ’منصوبوں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا‘۔

مقررہ معیارات اور ٹائم لائنز کے مطابق کام نہ کرنے والے ٹھیکیداروں کے خلاف قواعد و ضوابط کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی کاموں میں کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔ متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ منصوبوں کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے تاکہ زمینی حقائق پر مثبت نتائج نظر آئیں۔

عوامی ریلیف اور فیلڈ وزٹ

عوام تک ان منصوبوں کے ثمرات جلد پہنچانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے اعلان کیا کہ وہ آنے والے دنوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی سائٹس کا خود دورہ کریں گے تاکہ کام کے معیار اور رفتار کا براہِ راست جائزہ لے سکیں۔

انہوں نے افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ فیلڈ وزٹ کے دوران سامنے آنے والے مسائل کو فوری حل کیا جائے تاکہ شہری ان بنیادی سہولیات سے جلد از جلد مستفید ہو سکیں۔

راولپنڈی جو کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا جڑواں شہر ہے، طویل عرصے سے بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے دباؤ کے باعث بنیادی انفراسٹرکچر کے سنگین مسائل کا شکار رہا ہے۔

خاص طور پر اندرون شہر کی خستہ حال سڑکیں، ناقص سیوریج کا نظام اور پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی شہریوں کے دیرینہ مسائل ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستانی معیشت کیلئے اچھی خبر،ایشیائی ترقیاتی بینک ریکوڈک منصوبے کیلئے 41 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا

ماضی میں بھی مختلف ترقیاتی پیکجز کا اعلان ہوتا رہا ہے لیکن فنڈز کی عدم دستیابی یا بیوروکریٹک تاخیر کے باعث کئی منصوبے التوا کا شکار رہے۔ موجودہ 6.5 ارب روپے کا خطیر پیکج اسی خستہ حال انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ایک اہم کڑی ہے۔

شہری ترقی کے ان حالیہ منصوبوں کی منظوری ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کی جانب سے عوامی مسائل کے حل کی جانب ایک انتہائی مثبت اور بروقت پیش رفت ہے۔

سڑکوں کی تعمیر و توسیع اور سیوریج جیسے بنیادی مسائل کو حل کرنے سے نہ صرف شہریوں کا معیارِ زندگی بلند ہوگا بلکہ مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں اور ٹرانسپورٹیشن کو بھی فروغ ملے گا۔

تاہم سرکاری ترقیاتی کاموں کا سب سے بڑا چیلنج فنڈز کے اجرا کے بعد ان کا شفاف اور بروقت استعمال ہوتا ہے۔ متعلقہ محکموں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان اکثر منصوبوں کی لاگت میں اضافے اور تاخیر کا سبب بنتا ہے۔

ایسے میں انتظامی سربراہ کا ذاتی طور پر فیلڈ میں جانے کا فیصلہ اور مانیٹرنگ کا سخت طریقہ کار اس روایتی سست روی کو توڑنے میں انتہائی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر ان اعلانات کو حقیقی معنوں میں زمینی سطح پر پوری شفافیت کے ساتھ نافذ کر لیا گیا تو راولپنڈی کا شہری اور ٹریفک کا ڈھانچہ ایک نمایاں اور خوش آئند تبدیلی دیکھے گا۔

Related Articles