امریکی سپریم کورٹ نے غیر قانونی تارکین کو تیسرے ملک بھیجنے پر پابندیاں ختم کر دیں

امریکی سپریم کورٹ  نے غیر قانونی تارکین کو تیسرے ملک بھیجنے پر پابندیاں ختم کر دیں

امریکا کی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں غیر قانونی تارکین وطن کو ان کے اپنے ملک کے بجائے کسی دوسرے ملک بھیجنے پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔

 یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے بڑی قانونی کامیابی سمجھا جا رہا ہے، جو ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

سپریم کورٹ نے کیا فیصلہ دیا

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قدامت پسند اکثریت رکھنے والی سپریم کورٹ نے منگل کو صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی ہنگامی درخواست منظور کر لی ، اس کے نتیجے میں زیریں عدالت کا وہ حکم معطل ہو گیا جس میں “تیسرے ملک کی طرف بے دخلی” پر پابندی لگائی گئی تھی تاہم زیریں عدالت نے اس عمل کو مکمل طور پر ممنوع قرار نہیں دیا تھا۔

زیریں عدالت کا مؤقف 

زیریں عدالت نے کہا تھا کہ جن افراد کو ملک بدر کیا جا رہا ہو، انہیں پہلے سے مکمل طور پر بتایا جائے کہ انہیں کس ملک بھیجا جائے گا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ اس ملک سے متعلق اپنے ممکنہ خدشات عدالت کے سامنے رکھ سکیں۔

نو رکنی پینل میں شامل تین لبرل ججز نے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا،  ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست منظور نہیں کی جانی چاہیے تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ کا دفاع

صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں لاکھوں تارکین کو امریکا سے نکالنے کا وعدہ کیا تھا،  2025 میں وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد انہوں نے اس پر عمل کرتے ہوئے ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے کے اقدامات کیے۔

یہ بھی پڑھیں :امریکی صدر ٹرمپ کی خوراک میں کیا کچھ شامل؟ دلچسپ تفصیلات سامنے آگئیں

 انتظامیہ تیسرے ملک بھیجنے کے عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہتی ہے کہ کچھ تارکین اپنے ممالک واپس جانے سے انکار کر دیتے ہیں، اس لیے انہیں دوسرے ممالک بھیجنا ضروری ہے۔

مخالفین کا موقف

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی درخواست کی مخالفت کرنے والوں کا مؤقف تھا کہ زیریں عدالت کے فیصلے نے تیسرے ممالک بھیجنے کا عمل روکا ہی نہیں تھا ،  اس نے صرف یہ تقاضا کیا تھا کہ یہ عمل قانون کے مطابق ہو۔

ممالک کے ساتھ معاہدے

رپورٹ کے مطابق امریکا نے کئی ممالک کے ساتھ ایسے معاہدے کر رکھے ہیں جن کے تحت وہ امریکا سے نکالے گئے تارکین کو اپنے پاس رکھتے ہیں، اور اس کے بدلے انہیں لاکھوں ڈالر دیے جاتے ہیں۔

دسمبر میں سماعت کا امکان

سپریم کورٹ نے تیسرے ممالک بھیجنے کے عمل سے جڑے معاملات کی قانونی حیثیت جانچنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ اس بارے میں دسمبر میں سماعت ہو سکتی ہے یعنی حتمی قانونی فیصلہ ابھی باقی ہے۔

editor

Related Articles