قومی ادارے کی بڑی ہدایت، پاکستان میں سائبر سیکیورٹی مزید سخت

قومی ادارے کی بڑی ہدایت، پاکستان میں سائبر سیکیورٹی مزید سخت

پاکستان کی نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے صوبائی اور مختلف شعبوں کے کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیموں  کو سائبر سیکیورٹی کے مراکز تیز رفتاری سے قائم کرنے اور انہیں نیشنل سیکیورٹی آپریشنز سینٹر سے منسلک کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

این سی ای آر ٹی کے مطابق جن صوبائی یا سیکٹرل  نے ابھی تک اپنے سیکیورٹی آپریشنز سینٹرزقائم نہیں کیے یا انہیں نیشنل سیکیورٹی آپریشنز سینٹرزسے منسلک نہیں کیا، انہیں یہ عمل ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:زمین تیزی سے گھومنے لگی، 2029 میں وقت کے حساب میں بڑی تبدیلی کا امکان

نومبر 2026 تک آخری تاریخ

ایک سرکاری خط کے مطابق صوبائی اور سیکٹرل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں کو پہلے ہی ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنے متعلقہ سیکیورٹی آپریشنز سینٹرز 6 ماہ کے اندر قائم کریں اور انہیں نومبر 2026 تک مکمل طور پر فعال کریں۔ یہ ہدایات کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیمز کے قواعد 2023 اور نیشنل سائبر سیکیورٹی پالیسی 2021 کے تحت جاری کی گئی ہیں۔

  نیشنل سائبر سیکیورٹی پالیسی کے مطابق نیشنل سیکیورٹی آپریشنز سینٹر پاکستان کے قومی سائبر سیکیورٹی نظام کا پہلا اور مرکزی درجہ ہے، جہاں سائبر خطرات کی نگرانی، مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو یکجا کرنے اور سائبر واقعات سے نمٹنے کے لیے رابطہ کاری کی جاتی ہے۔ یہ مرکز اب 24 گھنٹے کام کر رہا ہے۔

کئی سیکٹرل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں پہلے ہی اپنے سیکیورٹی آپریشنز سینٹرزکو نیشنل سیکیورٹی آپریشنز سینٹر سے منسلک کر چکے ہیں، جہاں سے سائبر حملوں سے متعلق تکنیکی معلومات، واقعات کی رپورٹس اور خطرات سے متعلق انٹیلی جنس تقریباً حقیقی وقت میں قومی مرکز تک پہنچائی جا رہی ہے۔

خصوصی تکنیکی ٹیمیں مقرر کرنے کی ہدایت

نیشنل سیکیورٹی آپریشنز سینٹر نے ان  کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں کو بھی ہدایت دی ہے جن کےسیکیورٹی آپریشنز سینٹرز  ابھی قائم نہیں ہوئے یا نیشنل سیکیورٹی آپریشنز سینٹر سے منسلک نہیں ہیں کہ اس عمل کے لیے مخصوص تکنیکی افسران یا ٹیمیں مقرر کی جائیں۔

ان افسران یا ٹیموں کی تفصیلات خط جاری ہونے کے سات کاروباری دنوں کے اندر نیشنل سیکیورٹی آپریشنز سینٹر کو فراہم کرنا ہوں گی۔

اس کے علاوہ تمام متعلقہ کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں کو ہائی اور میڈیم سیوریٹی سائبر واقعات کے لاگز، الرٹس اور تھریٹ انٹیلی جنس نیشنل سیکیورٹی آپریشنز سینٹر کے ساتھ مسلسل اور حقیقی وقت میں شیئر کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:اسٹار شپ نے مدار میں پہنچ کر ریکارڈ بنایا، زمین پر واپسی کے دوران تباہ

پاکستان کا تین سطحی سائبر سیکیورٹی نظام

نیشنل سیکیورٹی آپریشنز سینٹرنے ادارہ جاتی سیکیورٹی آپریشنز سینٹرز کے لیے بھی واضح نظام مقرر کیا ہے۔ ٹائیر 3 پر کام کرنے والے اداروں کے سیکیورٹی آپریشنز سینٹرز کو اپنے متعلقہ صوبائی یا سیکٹرل SOCs سے منسلک کیا جائے گا، جو Tier 2 پر کام کریں گے۔

اس طرح ٹائیر 3سے حاصل ہونے والی معلومات ٹائیر 2کے ذریعے ٹائیر1 پر موجود نیشنل سیکیورٹی آپریشنز سینٹرتک پہنچ سکیں گی۔مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں سائبر خطرات کی نگرانی ایک مربوط نظام کے تحت کی جائے اور قومی سطح پر سائبر حملوں کی زیادہ بہتر اور بروقت معلومات حاصل ہوسکیں۔

editor

Related Articles