مشرق وسطیٰ میں امریکا کی بڑی فوجی نقل و حرکت، کیا ہونے والا ہے ؟ بڑی خبر آگئی

مشرق وسطیٰ میں امریکا کی بڑی فوجی نقل و حرکت، کیا ہونے والا ہے ؟ بڑی خبر آگئی

 امریکا نے ایران کے خلاف ممکنہ نئی کارروائیوں کے پیش نظر مشرق وسطیٰ میں 10 ہزار اضافی فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئی تعیناتی میں بحری جہازوں کے دو بڑے گروپس شامل ہوں گے۔

اس اقدام سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

امریکی حکام کے مطابق تعینات کیے جانے والے فوجیوں میں 7 ہزار سے زائد سیلرز اور 2 ہزار سے زائد میرینز شامل ہیں۔

ان میں یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ بھی شامل ہے۔

یو ایس ایس میکن آئی لینڈ ایمفی بیئس ریڈی نیس گروپ بھی خطے کی جانب روانہ کیا جارہا ہے۔

امریکی بحری موجودگی بڑھے گی

نئی فوجی تعیناتی کے بعد اکتوبر کے اختتام تک مشرق وسطیٰ میں تین امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے موجود ہوسکتے ہیں۔

یہ صورتحال خطے میں امریکی بحری اور فضائی موجودگی میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں ؛ہسپانوی جریدے نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ روکنے والی واحد طاقتور شخصیت قرار دے دیا 

پہلے سے موجود امریکی اہلکاروں کو شامل کیا جائے تو خطے میں امریکی سیلرز اور میرینز کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کرسکتی ہے۔

اس کے ساتھ سیکڑوں امریکی طیارے بھی خطے میں موجود ہوں گے۔

امریکی فوجی موجودگی میں یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا جارہا ہے، جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔

حالیہ صورتحال میں فوجی تعیناتی کے ساتھ سفارتی رابطوں کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

ایران کے خلاف کارروائی کا امکان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔

انہوں نے کہا ہے کہ 3 نومبر کے امریکی انتخابات کے بعد ایران میں بمباری بڑھانا ممکن ہے۔

ٹرمپ کے بیان نے خطے میں موجود کشیدگی کے درمیان نئی تشویش پیدا کردی ہے۔

امریکی فوجی موجودگی میں اضافے کے ساتھ صدر کی جانب سے کارروائی کے امکان کا ذکر بھی سامنے آیا ہے۔

تاہم نئی فوجی تعیناتی کا مقصد امریکی حکام کی جانب سے مکمل طور پر کسی مخصوص کارروائی سے منسلک نہیں کیا گیا۔

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اثاثوں کی موجودگی خطے کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں اہم سمجھی جارہی ہے۔

فلائی دبئی واقعے کا حوالہ

ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی پرواز کے پائلٹ پر حملے کی کوشش کا بھی حوالہ دیا۔

ٹرمپ کے مطابق اس کوشش میں مبینہ معاون پائلٹ کے ایران سے تعلق کے ابتدائی شواہد موجود ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایران سے تعلق ثابت ہوا تو امریکا سخت جوابی کارروائی کرے گا۔

تاہم اس معاملے میں حتمی ذمہ داری طے ہونے کے لیے مزید تحقیقات کی ضرورت ہوگی۔

یہ معاملہ بھی امریکا اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں ایک نیا پہلو بن گیا ہے۔

ایران کی جانب سے اس الزام پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے، یہ بھی صورتحال کے لیے اہم ہوگا۔

جنگ بندی کی تجویز مسترد

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تازہ جنگ بندی تجویز مسترد کرنے کا بھی بتایا ہے۔

ان کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش مجموعی طور پر کافی نہیں تھی۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔

اس راستے سے تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔

خطے میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں اس اہم آبی گزرگاہ سے متعلق صورتحال عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے بھی اہم ہوسکتی ہے۔

خاص طور پر تیل کی قیمتوں اور عالمی سپلائی پر اس کے ممکنہ اثرات زیر بحث آسکتے ہیں۔

 

editor

Related Articles