گاڑیوں پر بڑا ریلیف متوقع، کسٹمز ڈیوٹی میں 80 فیصد تک کمی کی تجویز

گاڑیوں پر بڑا ریلیف متوقع، کسٹمز ڈیوٹی میں 80 فیصد تک کمی کی تجویز

نئی آٹو پالیسی 2026-31 پر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مکمل اتفاق نہ ہوسکا عالمی مالیاتی ادارے نے پالیسی کے بعض نکات پر مزید وضاحت اور ڈیٹا طلب کرلیا جس کے بعد مسودے میں ترامیم کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے تیار کردہ نئی آٹو پالیسی کا مسودہ آئی ایم ایف کے سامنے پیش کیا گیا جس پر عالمی مالیاتی ادارے نے بعض تجاویز اور ٹیکس و ڈیوٹی سے متعلق اقدامات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ نئی صورتحال سے اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مزید مشاورت کے بعد پالیسی کے بعض نکات پر نظرثانی کی جائے گی جبکہ اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کی مشاورت سے مسودے کو حتمی شکل دی جائے گی۔ موجودہ مرحلے پر پالیسی میں شامل تجاویز کو حتمی نافذ شدہ قواعد نہیں سمجھا جاسکتا۔

نئی آٹو پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستان کی آٹو صنعت میں مسابقت بڑھانا گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لانا، مقامی پیداوار اور برآمدات کو فروغ دینا اور نئی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانا ہے۔ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت پاکستان نے آٹو سیکٹر میں تحفظات اور بلند ٹیرف کو مرحلہ وار کم کرنے کا عزم بھی کیا ہے۔ آئی ایم ایف کی دستاویزات کے مطابق آٹو سیکٹر میں اضافی اور ریگولیٹری کسٹمز ڈیوٹیز ختم کرنے اور کسٹمز ڈیوٹی میں نمایاں کمی کا راستہ اختیار کیا جانا ہے۔

مسودے میں عام گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی میں اگلے پانچ سال کے دوران نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے، جس کا مقصد گاڑیوں کی قیمتوں کو کم کرنا اور مارکیٹ میں مسابقت بڑھانا ہے۔ رپورٹس کے مطابق روایتی گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی میں 80 فیصد تک مرحلہ وار کمی کی تجویز زیرغور ہے، تاہم اس کی حتمی شکل آئی ایم ایف اور حکومتی منظوری کے بعد ہی واضح ہوگی۔

نئی پالیسی میں برقی اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے۔ مسودے کے مطابق بیٹری الیکٹرک گاڑیوں، پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں اور رینج ایکسٹینڈر الیکٹرک گاڑیوں کو مساوی حیثیت دینے کی تجویز ہے۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو مختلف نئی ٹیکنالوجیز کے درمیان انتخاب کا موقع دینا اور ملک میں برقی گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔

مجوزہ پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ٹیکس مراعات بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد رکھنے، جبکہ بعض صورتوں میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنا دینے کی تجویز ہے۔ تاہم ان مراعات کے دائرہ کار اور حتمی شرحوں پر آئی ایم ایف کے ساتھ مزید بات چیت متوقع ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ انفراسٹرکچر کو بھی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ مسودے میں چارجنگ اسٹیشنز کے سامان اور متعلقہ درآمدی اشیا پر کسٹمز ڈیوٹی ایک فیصد رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے تاکہ ملک میں چارجنگ نیٹ ورک کے قیام اور برقی گاڑیوں کے استعمال کو آسان بنایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں:کارکنوں کی عدم دلچسپی اور مارچ کی تیاریوں پر اختلاف، پی ٹی آئی آج حکومت سے مذاکرات کرے گی

رپورٹس کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے قرض کی حد بڑھانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ مجوزہ پالیسی میں فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے اور قرض کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کا مقصد صارفین کے لیے مہنگی نئی ٹیکنالوجی والی گاڑیوں کی خریداری کو نسبتاً آسان بنانا ہے۔

نئی آٹو پالیسی میں صرف مقامی مارکیٹ اور گاڑیوں کی قیمتوں پر توجہ نہیں دی گئی بلکہ برآمدات بڑھانے کے اہداف بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ مسودے کے مطابق گاڑیوں اور آٹو پارٹس کو عالمی سپلائی چین سے منسلک کرنے اور برآمدات میں اضافے کے لیے مرحلہ وار اہداف مقرر کیے جائیں گے۔ رپورٹس کے مطابق کاروں کی برآمد کا ہدف 2026-27 میں چار فیصد سے شروع کرکے 2030-31 تک 20 فیصد تک لے جانے کی تجویز ہے، جبکہ آٹو پارٹس بنانے والوں کے لیے بھی برآمدی اہداف بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔

پالیسی میں گاڑیوں کے معیار، نئی ٹیکنالوجی، مقامی پیداوار اور صارفین کے تحفظ کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے اور بکنگ کے بعد ڈیلیوری کے معاملات سے متعلق صارفین کے حقوق بہتر بنانے کے لیے بھی بعض تجاویز زیرغور ہیں۔

نئی آٹو پالیسی کے حوالے سے ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ حکومت نے گاڑیوں کے شعبے میں طویل عرصے سے موجود تحفظاتی نظام کو بتدریج کم کرنے کا عزم کیا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اصلاحات کے مطابق پاکستان کو آٹو سیکٹر میں ٹیرف کم کرنے، اضافی ڈیوٹیز ختم کرنے اور درآمدی رکاوٹیں کم کرنے کی سمت آگے بڑھنا ہے۔

تاہم مقامی صنعت، درآمد کنندگان اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان بعض تجاویز پر اختلافات موجود ہیں۔ اسی لیے حکومت کی جانب سے پالیسی کو حتمی شکل دینے سے قبل مقامی صنعت، امپورٹرز اور آئی ایم ایف کے ساتھ مزید مشاورت کا عمل جاری رکھنے کا امکان ہے۔

یوں نئی آٹو پالیسی کے تحت گاڑیوں کی قیمتوں میں ممکنہ کمی، الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے مراعات، درآمدی ڈیوٹی میں کمی اور برآمدات میں اضافے کی تجاویز سامنے آئی ہیں، لیکن ان میں سے کسی بھی اقدام کو حتمی قرار دینے سے پہلے آئی ایم ایف سے مشاورت، اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کی منظوری اور متعلقہ قواعد و نوٹیفکیشن کا مرحلہ مکمل ہونا باقی ہے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles