پاکستان میں مزاحیہ تھیٹر کی دنیا پر ایک عرصے تک راج کرنے والے فنکار عمر شریف کو مداحوں سے بچھڑے پانچ برس بیت گئے ۔
کچھ لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں، مگر ان کی آواز، ان کے جملے اور ان کا انداز پیچھے رہ جاتا ہے ، عمر شریف بھی ایسے ہی فنکار تھے ، پانچ برس بعد بھی ان کا کوئی پرانا کلپ سامنے آ جائے تو چہرے پر مسکراہٹ خود بخود آ جاتی ہے۔
محمد عمر 19 اپریل 1955ء کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں پیدا ہوئے ، انہوں نے اپنے سفر کا آغاز بطور اسٹیج پرفارمر “عمر ظریف” کے نام سے کیا ، بعد میں یہ نام بدل کر “عمر شریف” رکھ لیا، اور پھر دنیا بھر میں اسی نام سے پہچانے گئے۔
لیاقت آباد کا لڑکا، جو کامیڈی کا بادشاہ بنا
اسٹیج، ٹی وی اور فلم، تینوں میدانوں میں انہوں نے پاکستانی کامیڈی کو ایک نئی پہچان دی اور کئی دہائیوں تک لوگوں کو ہنسانے والے اس فنکار کا انداز سب سے منفرد تھا۔
1980ء میں عمر شریف نے پہلی بار آڈیو کیسٹ کے ذریعے اپنے ڈرامے ریلیز کیے ، یہ تجربہ زبردست کامیاب رہا، ان ڈراموں کی گونج پاکستان کے ساتھ پڑوسی ملک بھارت میں بھی سنائی دی۔
ان کے مقبول ڈراموں میں 1989ء میں ریلیز ہونے والا مشہور مزاحیہ ڈرامہ “بکرا قسطوں پر” سرفہرست ہے، جسے آج بھی لوگ شوق سے یاد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ “بڈھا گھر پر ہے”، “میری بھی تو عید کرا دے” اور “ماموں مذاق مت کرو” جیسے ڈرامے بھی ناظرین میں بے حد پسند کیے گئے اور آج بھی عمر شریف کی پہچان سمجھے جاتے ہیں۔
عمر شریف صرف اداکار نہیں تھے، انہوں نے 70 سے زائد ڈراموں کے اسکرپٹ لکھے، اور ان میں مصنف، ہدایتکار اور اداکار تینوں حیثیتوں سے خود کام کیا۔ ان ڈراموں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے، اور انہیں اسٹیج ڈراموں کا بے تاج بادشاہ کہا جانے لگا۔
سٹیج ڈراموں کے ساتھ ساتھ عمر شریف نے مسٹر420 ، مسٹر چارلی اور چاند بابو جیسی فلمیں بھی پروڈیوس کیں، مسٹر 420 کے لیے انھیں دو نیشنل اور چار نگار ایوارڈز بھی ملے جو پاکستان میں ایک ریکارڈ ہے۔
اس کے علاوہ انھوں نے جن فلموں میں کام کیا ان میں حساب، کندن، بہروپیا، پیدا گیر، خاندان اور لاٹ صاحب شامل ہیں۔
عمر شریف نے پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز پر بھی شوز کیے اور ایسے ہی ایک شو ’عمر شریف ورسز عمر شریف‘ میں وہ 400 سے زیادہ بہروپوں میں نظر آئے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔
پاکستان ہی نہیں پوری دنیا معترف
عمر شریف پاکستان کے شاید واحد مزاحیہ فنکار ہیں جن کے پرستار پوری دنیا میں موجود ہیں ، امیتابھ بچن ہو، شاہ رخ خان یا بولی وڈ کے بڑے بڑے نام سب ان کے مداح تھے ،بھارتی کامیڈی کے معروف نام جونی لیور اور راجو شریواستو ان کی اداکاری سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے عمر شریف کو “دی گارڈ آف ایشین کامیڈی” کا لقب دے دیا۔
2 اکتوبر 2021ء کو عمر شریف دل کے عارضے کے باعث 66 برس کی عمر میں جرمنی میں علاج کے دوران انتقال کر گئے۔ پورے ملک میں ان کے چاہنے والوں کے لیے یہ ایک بڑا صدمہ تھا۔
پانچ برس گزر جانے کے باوجود عمر شریف کا نام پاکستانی کامیڈی میں ایک معیار کی حیثیت رکھتا ہے، نئی نسل آج بھی ان کے پرانے کلپس اور ڈرامے شوق سے دیکھتی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا فن وقت کے ساتھ پرانا نہیں ہوا ، ایک لیجنڈ کی پہچان یہی ہے ، عمر شریف اب دنیا میں نہیں رہے، مگر ان کا کام آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے ۔