سہیل آفریدی حکومت میں تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں، احتجاج کرنے والے طلبہ پر گولیاں چل گئیں

سہیل آفریدی حکومت میں تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں، احتجاج کرنے والے طلبہ پر گولیاں چل گئیں

حیات آباد میں احتجاج کرنے والے طلبہ پر مبینہ فائرنگ کے واقعے نے خیبر پختونخوا میں امن و امان، احتجاج سے نمٹنے کے حکومتی طریقہ کار اور تعلیمی اداروں کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ طلبہ کے احتجاج کے دوران اگر واقعی فائرنگ کی گئی ہے تو یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ اس بات پر بھی غور کا تقاضا کرتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اختلافات اور مطالبات کا جواب مذاکرات، انتظامی کارروائی اور قانون کے دائرے میں دیا جارہا ہے یا طاقت کے استعمال سے۔

حیات آباد کے ایک نجی یونیورسٹی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ فائرنگ کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد طلبہ، والدین اور تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ واقعے کی مکمل نوعیت، فائرنگ کس جانب سے ہوئی، کسی کو نقصان پہنچا یا نہیں اور اس کے ذمہ دار کون ہیں، یہ سب سوالات شفاف تحقیقات کے متقاضی ہیں۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پشاور کے تعلیمی اداروں میں احتجاج اور انتظامیہ کے درمیان کشیدگی کے واقعات پہلے بھی رپورٹ ہوچکے ہیں۔ گزشتہ ماہ حیات آباد کے پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ میں طلبہ کے احتجاج کے بعد 11 طلبہ کو حراست میں لیا گیا تھا، جس پر صوبائی حکومت نے انکوائری کا حکم دیا تھا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق طلبہ نے ادارے کے احاطے کو بند کیا تھا اور انتظامیہ نے ممکنہ تشدد روکنے کے لیے پولیس طلب کی، جبکہ طلبہ کا مؤقف تھا کہ وہ اپنے ہاسٹل اور دیگر مسائل کے حل کے لیے پرامن احتجاج کررہے تھے۔

حیات آباد کے تازہ واقعے نے اس بنیادی سوال کو دوبارہ سامنے لاکھڑا کیا ہے کہ کیا تعلیمی اداروں میں احتجاج کا جواب طاقت سے دیا جائے گا یا بات چیت سے؟

جامعات اور کالجز وہ مقامات ہیں جہاں اختلافِ رائے، سوال اٹھانے اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اگر کسی تعلیمی ادارے میں طلبہ کے مطالبات سامنے آئیں تو انتظامیہ اور حکومت کے پاس مذاکرات، کمیٹیاں، انکوائری اور قانونی طریقہ کار جیسے راستے موجود ہوتے ہیں۔ ایسے میں فائرنگ یا تشدد کی کسی بھی شکل کی شکایت انتہائی سنجیدہ معاملہ بن جاتی ہے۔

خیبر پختونخوا میں پہلے ہی امن و امان کی صورتحال اور حکومتی رٹ کے حوالے سے سیاسی بحث جاری ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خود ستمبر میں پولیس سے متعلق ایک اجلاس میں کہا تھا کہ پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے اور غیر قانونی احکامات کی مزاحمت کرنی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ صوبائی حکومت کی سیاسی تحریک پرامن ہے اور مسلح جدوجہد نہیں کی جارہی۔

اسی پس منظر میں اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ حکومت کے دعوے کے مطابق اگر بات چیت اور پرامن سیاسی و سماجی سرگرمیوں کو ترجیح دی جانی ہے تو تعلیمی اداروں میں طلبہ کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے بھی اسی اصول کو یقینی کیوں نہ بنایا جائے؟

ناقدین کے لیے یہ واقعہ صوبے میں بڑھتے ہوئے ایسے ماحول کی علامت بن سکتا ہے جہاں اختلاف اور احتجاج کے بجائے طاقت کے استعمال کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔ تاہم یہ تاثر اور سیاسی تنقید ہے، جسے حتمی حقیقت قرار دینے سے پہلے واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔

اس سے قبل حیات آباد کے نرسنگ کالج کے واقعے میں بھی طلبہ نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے پرامن احتجاج کے بجائے پولیس کارروائی کی گئی، جبکہ حکام کا مؤقف مختلف تھا۔ اسی اختلافِ مؤقف کے باعث صوبائی حکومت نے انکوائری کمیٹی قائم کی تھی۔

یہ صورتحال حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بھی ہے۔ اگر تعلیمی اداروں میں طلبہ اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو حکومت اور انتظامیہ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے ساتھ قانون کے مطابق، تحمل اور مکالمے کے ذریعے معاملہ کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کے ساتھ مبینہ تشدد کے بعد ڈاکٹروں کی تنظیم نے ہسپتالوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ تنظیم کا مؤقف تھا کہ اگر ڈاکٹر اپنے ہسپتالوں میں بھی محفوظ نہیں تو صورتحال تشویشناک ہے۔ انتظامیہ کے مؤقف اور واقعے کی مکمل ذمہ داری کا تعین الگ معاملہ ہے، تاہم یہ واقعہ بھی احتجاج سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بحث کو تقویت دیتا ہے۔

اب حیات آباد کی نجی یونیورسٹی میں طلبہ پر مبینہ فائرنگ کے معاملے میں اصل ضرورت الزامات اور جوابی الزامات سے آگے بڑھ کر شفاف تحقیقات کی ہے۔ اگر فائرنگ ہوئی تو اس کا حکم کس نے دیا، فائرنگ کس نے کی، کیا کوئی سرکاری اہلکار ملوث تھا، طلبہ کے احتجاج کی نوعیت کیا تھی اور کیا طاقت کے استعمال سے پہلے مذاکرات کی کوشش کی گئی؟ ان تمام سوالات کے جوابات سامنے آنا ضروری ہیں۔

تعلیمی اداروں میں قلم، کتاب، دلیل اور مکالمہ ہی اختلاف حل کرنے کے بنیادی راستے ہونے چاہئیں۔ اگر کسی طالب علم کے مطالبے یا احتجاج کا جواب گولی سے دینے کی شکایت درست ثابت ہوتی ہے تو یہ صرف قانون و امن کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ تعلیمی ماحول، نوجوانوں کے اعتماد اور ریاستی اداروں کے ساتھ ان کے تعلق کا بھی سوال بن جائے گا۔

سہیل آفریدی حکومت کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ امن و امان کے حوالے سے اپنے دعووں کو عملی اقدامات سے ثابت کرے، تعلیمی اداروں کو سیاسی اور انتظامی کشیدگی سے محفوظ رکھے اور کسی بھی احتجاج کو طاقت کے بجائے قانون، مذاکرات اور شفاف طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کی پالیسی واضح کرے۔

حیات آباد کا واقعہ اب ایک ایسے سوال میں تبدیل ہوگیا ہے جس کا جواب حکومت، پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ تینوں کو دینا ہوگا: طلبہ کے ہاتھ میں کتاب اور قلم ہوگا یا احتجاج کے جواب میں طاقت کا استعمال صوبے کے تعلیمی ماحول کا نیا معمول بن رہا ہے؟

Qaisar Mirza
editor

Related Articles