حکومت اور اپوزیشن مذاکرات میں اچانک تلخی ، رانا ثنا اللہ اور علامہ ناصر عباس میں جھڑپ کیوں ہوئی؟

حکومت اور اپوزیشن مذاکرات میں اچانک تلخی ، رانا ثنا اللہ اور علامہ ناصر عباس میں جھڑپ کیوں ہوئی؟

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دوران ماحول اس وقت گرم ہوگیا جب حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان مختلف سیاسی معاملات پر سخت جملوں کا تبادلہ ہوا رانا ثنا اللہ اور اپوزیشن رہنما علامہ ناصر عباس کے درمیان بھی گفتگو کے دوران تلخی پیدا ہوئی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے چیمبر میں ہونے والے مذاکرات میں حکومت اور اپوزیشن کے رہنما آمنے سامنے بیٹھے۔ مذاکرات کا بنیادی مقصد موجودہ سیاسی صورتحال، خیبر پختونخوا میں امن و امان اور 4 اکتوبر کے مجوزہ احتجاج سمیت اہم معاملات پر بات چیت کرنا تھا۔

ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران بعض معاملات پر حکومت اور اپوزیشن کے مؤقف میں واضح اختلاف سامنے آیا اور ماحول میں گرما گرمی پیدا ہوئی۔ رانا ثنا اللہ اور علامہ ناصر عباس کے درمیان بھی ایک موقع پر سخت جملوں کا تبادلہ ہوا دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر الزامات لگائے گئے تاہم دیگر قائدین نے مداخلت کرتے ہوے معاملہ رفع دفع کرایا۔کافی دیر تلخی کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا اور فریقین نے سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے امکانات پر گفتگو کی۔

مذاکرات میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، امیر مقام اور طارق فضل چوہدری شریک ہیں، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر، علامہ ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر سمیت دیگر رہنما شریک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی حکومت میں تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں، احتجاج کرنے والے طلبہ پر گولیاں چل گئیں

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی کے ساتھ خیبر پختونخوا کی امن و امان کی صورتحال بھی اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔

اب مذاکرات کے دوران پیدا ہونے والی تلخی کے باوجود اصل سوال یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اختلافات کو کس حد تک بات چیت کے ذریعے کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں اور کیا 4 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے کوئی سیاسی راستہ نکالا جاسکے گا۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles