وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس حسن اظہر رضوی نے مونال کیس کا 44 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمے میں عدالتی اختیار کی حدود سے تجاوز کے باعث سنگین ناانصافی ہوئی۔
عدالت نے قرار دیا کہ اس بنیاد پر سابقہ فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ عدالت نے سی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی نظرثانی درخواستیں بھی منظور کر لیں۔
نظرثانی درخواستیں منظور
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کا سابقہ نظرثانی فیصلہ بھی برقرار نہیں رہ سکتا۔ متاثرہ فریقین کو مؤثر طور پر سنے بغیر ان کے حقوق سے متعلق فیصلہ کیا گیا۔
فیصلے کے مطابق اعلیٰ ترین عدالت کا فیصلہ بھی متاثرہ فریقین کو سماعت کا مناسب موقع دیے بغیر برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کو مخصوص حالات میں مونال کیس کی سماعت سے گریز کرنا چاہیے تھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ عدالتی نتائج ذاتی معلومات کی بنیاد پر نہیں ہونے چاہییں۔ فیصلے شواہد، عدالتی ریکارڈ اور متعلقہ قانون کے مطابق ہونے ضروری ہیں۔
سیاسی وابستگیوں کے مشاہدات حذف
عدالت نے فریقین کے ذاتی تعلقات اور سیاسی وابستگیوں سے متعلق سپریم کورٹ کے مشاہدات بھی حذف کر دیے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ ایسے معاملات کا تعین متعلقہ ریکارڈ اور قانونی شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
وفاقی آئینی عدالت نے مارگلہ ہلز میں ریسٹورنٹس سے متعلق بعض اہم مشاہدات پر بھی غور کیا۔ عدالت نے کہا کہ ریسٹورنٹس کو مارگلہ ہلز میں آگ لگنے کا سبب قرار دینا شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔
فیصلے کے مطابق تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ متنازع حقائق کے حتمی ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ مارگلہ نیشنل پارک میں ریسٹورنٹس پر مکمل پابندی متعلقہ قانونی نظام سے مطابقت نہیں رکھتی۔
نیشنل پارک کا اصل سوال
عدالت نے قرار دیا کہ اصل قانونی سوال یہ ہے کہ کوئی مخصوص تعمیر یا سرگرمی نیشنل پارک کے بنیادی مقصد کو نقصان پہنچاتی ہے یا نہیں۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ نیشنل پارک میں عوامی سہولتوں کی اجازت ماحولیاتی تحفظ اور قانونی شرائط کے تابع ہے۔ سی ڈی اے کی منظوری کسی ممنوعہ ماحولیاتی سرگرمی کو قانونی حیثیت نہیں دے سکتی۔
عدالت نے مونال کی زمین کی ملکیت، لیز اور کرائے سے متعلق تنازعات کو شواہد کی بنیاد پر سول عدالت میں طے کرنے کا حکم دیا۔
کرائے سے متعلق حکم کالعدم
وفاقی آئینی عدالت نے وائلڈ لائف بورڈ کو کرایہ وصول کرنے کا اختیار دینے والی عدالتی ہدایت بھی کالعدم قرار دے دی۔
فیصلے میں حکم دیا گیا کہ وائلڈ لائف بورڈ سے وصول کیا گیا یا نکلوایا گیا کرایہ فوری طور پر سرکاری خزانے میں جمع کرایا جائے۔
عدالت نے متعلقہ سول مقدمات کو یکجا کرنے کی ہدایت بھی کی۔ فیصلے کے مطابق ان مقدمات میں وفاقی حکومت کو بھی فریق بنایا جائے۔
سول عدالت کو فیصلہ کرنے کی ہدایت
وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ سول عدالت سابقہ عدالتی مشاہدات سے متاثر ہوئے بغیر مقدمات کا فیصلہ کرے۔ عدالت نے متعلقہ مقدمات کو جلد نمٹانے کی ہدایت بھی کی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ متاثرہ فریق متعلقہ سول عدالت سے عبوری ریلیف کے لیے نئی درخواست دے سکتے ہیں۔
زیر التوا انٹرا کورٹ اپیلوں کے بارے میں بھی عدالت نے واضح ہدایات جاری کیں۔ ان اپیلوں کا فیصلہ ان کے میرٹ اور قانون کے مطابق الگ سے کیا جائے گا۔
وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے 21 اگست 2024 کے فیصلے کو بیان کردہ قانونی حدود تک کالعدم قرار دے دیا۔ مونال کیس میں جاری تفصیلی فیصلے نے عدالتی اختیار، شواہد اور متاثرہ فریقین کو سماعت کے حق سے متعلق اہم قانونی نکات سامنے رکھے ہیں۔