8 دہائیوں کا انتظار کب ختم ہوگا؟ پاکستان کا اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا بھرپور دفاع

8 دہائیوں کا انتظار کب ختم ہوگا؟ پاکستان کا اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا بھرپور دفاع

 پاکستان نے غزہ میں شہریوں کے تحفظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے عالمی قانون کی پاسداری یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے عالمی برادری پر زور دیا کہ انسانی حقوق کے اصولوں کا اطلاق بلا امتیاز ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی قانون اور انسانی حقوق کے اصول ایک جگہ نافذ کرنا اور دوسری جگہ نظر انداز کرنا قابل قبول نہیں۔

غزہ کا امتحان

عثمان جدون نے کہا کہ غزہ میں فلسطینی عوام کی مشکلات عالمی برادری کے انسانی حقوق سے عزم کا فیصلہ کن امتحان ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :افغان سرزمین پاکستان کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے، پاکستانی مندوب کا سیکیورٹی کونسل میں اظہارِ تشویش

   انہوں نے کہا کہ  شہریوں کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے۔ غزہ میں انسانی امداد بھی بغیر رکاوٹ متاثرہ آبادی تک پہنچنی چاہیے۔

  انسانی حقوق کے نظام کی ساکھ اصولوں اور ان پر عملدرآمد کے درمیان موجود فرق ختم کرنے سے جڑی ہے۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ انسانی وقار کسی فرد کے مذہب، قومیت یا شناخت سے مشروط نہیں ہونا چاہیے۔

فلسطینی حق خودارادیت

عثمان جدون نے فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ حق خودارادیت کا اصول جموں و کشمیر کے عوام پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

ان کے مطابق کشمیری عوام تقریباً آٹھ دہائیوں سے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔

پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اس مؤقف کا اظہار کیا کہ انسانی حقوق کے اصولوں کا اطلاق تمام لوگوں کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔

عالمی برادری پر زور

پاکستانی نائب مستقل مندوب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ انسانی حقوق سے متعلق وعدوں اور زمینی حقائق کے درمیان موجود خلیج ختم کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو سلاموفوبیا، نسل پرستی اور اجنبی بیزاری کے بڑھتے ہوئے رجحانات کا بھی مقابلہ کرنا ہوگا۔

عثمان جدون کے مطابق انسانی وقار کا معیار طاقت نہیں ہونا چاہیے۔ انصاف کو سیاست سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، او آئی سی نے مسئلہ کشمیر پر بڑا فیصلہ سنادیا

انہوں نے کہا کہ ترقی کوئی مراعات نہیں بلکہ انسانی حقوق کے اصولوں کے عالمگیر اطلاق کا حصہ ہے۔

اصولوں کا یکساں اطلاق

پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کے اصولوں کو بلا امتیاز نافذ کیا جائے۔

عثمان جدون نے کہا کہ عالمی برادری کو اپنے وعدوں اور عملی اقدامات کے درمیان موجود فرق ختم کرنا ہوگا۔

ان کے مطابق انسانی حقوق کا احترام طاقت یا سیاسی مفادات سے مشروط نہیں ہونا چاہیے۔

پاکستان نے غزہ میں شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی فراہمی اور عالمی قانون کی پاسداری کے ساتھ فلسطینیوں کے حق خودارادیت کا اعادہ کیا ہے۔

editor

Related Articles