ایران کے ساتھ مذاکرات،امریکی صدر ٹرمپ نے بڑی پیشکش کردی

ایران کے ساتھ مذاکرات،امریکی صدر ٹرمپ نے بڑی پیشکش کردی

  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران سے براہِ راست مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔

امریکی صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :کیا ایران اور امریکہ کے درمیان نیا معاہدہ طے پانے والا ہے؟ امریکی سینیٹر کا بڑا دعویٰ

ٹرمپ نے گفتگو میں ایک اماراتی طیارے سے متعلق واقعے پر بھی بات کی۔ انہوں نے اس واقعے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی ۔

بمبار طیارے واپس

ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے آر اے ایف فیئرفورڈ ائیربیس سے امریکی بمبار طیاروں کی واپسی پر بھی وضاحت دی۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایک مخصوص خطرہ موجود تھا جس کے باعث بمبار طیاروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے اس خطرے کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔ تاہم ان کے بیان سے خطے میں موجود حساس صورتحال واضح ہوتی ہے۔

امریکی بمبار طیاروں کی واپسی کا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن کی ایران پالیسی مسلسل توجہ کا مرکز ہے۔

ٹرمپ ایک طرف ایران سے براہِ راست مذاکرات کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ایران سے متعلق مختلف سکیورٹی معاملات پر سخت مؤقف بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

ایندھن مہنگا کیوں؟

ٹرمپ نے قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار سیاسی مخالفین اور روس یوکرین جنگ کو قرار دیا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ایران جنگ کے حوالے سے بھی وضاحت کی۔

ٹرمپ  نے کہا کہ  ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کا تعلق اب ایران کے خلاف جنگ سے نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کی موجودہ وجہ آبنائے ہرمز نہیں بلکہ ریفائنریز ہیں۔

 نئی سفارتی سمت

ایران سے براہِ راست مذاکرات کے لیے ٹرمپ کی آمادگی اہم سفارتی اشارے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ رابطے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کر رہا۔

ایران امریکہ مذاکرات ، پزشکیان کے بیان میں نے ہلچل مچا دی

تاہم دوسری جانب ٹرمپ نے ایران سے متعلق سکیورٹی معاملات پر اپنے سخت مؤقف میں نرمی کا واضح اعلان نہیں کیا۔

امریکی صدر کے بیانات میں مذاکرات کی پیشکش اور سکیورٹی خدشات دونوں پہلو بیک وقت نمایاں ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست رابطہ بحال ہونے کی صورت میں خطے کی کشیدہ صورتحال پر اس کے وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

editor

Related Articles