امریکا نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کا عندیہ دیتے ہوئے غیر ملکی مالیاتی اداروں کو سخت انتباہ جاری کردیا۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ایران یا اس کے بینکاری شعبے سے متعلق بعض لین دین غیر ملکی مالیاتی اداروں کو امریکی پابندیوں کی زد میں لاسکتے ہیں۔ واشنگٹن نے ایسے اداروں کو ایران سے متعلق کاروباری روابط پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
غیر ملکی بینکوں کو انتباہ
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ پابندیوں کی زد میں موجود ایرانی مالیاتی اداروں کے ساتھ لین دین کرنے والے غیر ملکی بینکوں کو کارروائی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
واشنگٹن کے مطابق ایسے اداروں کو پیشگی اطلاع کے بغیر بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ امریکا نے مالیاتی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ایران سے متعلق مشکوک یا ممنوعہ لین دین سے گریز کریں۔
امریکی محکمہ خزانہ حالیہ دنوں میں ایران کے مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں تیز کرچکا ہے۔ یکم اکتوبر کو واشنگٹن نے ایک بین الاقوامی مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف بھی کارروائی کی تھی۔
معاشی دباؤ میں اضافہ
امریکا کی جانب سے ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید محدود کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کے لیے پابندیوں سے بچنے کے راستے بند کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ایران امریکہ وفود کی ملاقات، ایران نے بڑی پیشکش کر دی،اہم تفصیلات سامنے آگئیں
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق مالیاتی سہولت کاری کرنے والے اداروں کو امریکی مالیاتی نظام تک رسائی ختم ہونے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
29 ستمبر کو بھی امریکا نے ایران کے دفاعی شعبے کے لیے مالی اور عسکری خریداری میں معاونت کرنے والے افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
پابندیوں کا دائرہ
واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ ایران کے لیے پابندیوں سے بچنے کے راستے بنانے والوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ امریکی حکام نے ثانوی پابندیوں کا خطرہ بھی نمایاں کیا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ بعض غیر امریکی مالیاتی ادارے بھی ایران سے متعلق مخصوص لین دین کے باعث امریکی کارروائی کی زد میں آسکتے ہیں۔ اس پالیسی سے عالمی بینکاری اداروں پر ایران کے ساتھ کاروباری روابط کے حوالے سے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :اقوام متحدہ کی ایران امریکہ امن معاہدے میں پاکستان کے کردار کی تعریف


