وزیراعظم شہباز شریف 8 سے 10 اکتوبر کے درمیان 7.2 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والی ’اسلام آباد ماڈل جیل‘ کا افتتاح کریں گے جس کا انتظامی کنٹرول اسلام آباد انتظامیہ نے سنبھال لیا ہے۔
سیکٹر ایچ 16 میں واقع یہ جیل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے آئندہ احتجاج، ممکنہ گرفتاریوں اور دارالحکومت کے سیکیورٹی معاملات کو سنبھالنے کے لیے انتہائی اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ہے۔
’اڈیالہ جیل‘ پر دباؤ میں کمی اور نیا انتظامی ڈھانچہ
وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کی جانب سے اس نئی جیل کا کنٹرول سنبھالنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔
اس سے قبل اسلام آباد پولیس کو قیدیوں کے لیے مکمل طور پر پڑوسی صوبے پنجاب کی جیلوں بالخصوص راولپنڈی کی اڈیالہ جیل پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:’دھرنوں اور لالی پاپ کی سیاست ختم کی جائے‘، احتجاجی دھرنوں اور مارچ کے بجائے امن اور روزگار فراہم کیا جائے، کے پی عوام پھٹ پڑے
یہ سہولت اس لیے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس سے اڈیالہ جیل پر پڑنے والا شدید دباؤ کم ہو جائے گا۔ اڈیالہ جیل اس وقت گنجائش سے زیادہ قیدیوں اور ہائی پروفائل سیاسی شخصیات کی
وجہ سے مسلسل تناؤ کا شکار ہے، جن میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے زیرِ سماعت قیدیوں اور مظاہرین کو اس نئی جیل میں منتقل کرنے سے حکام کو مختلف نوعیت کے قیدیوں کو الگ رکھنے میں بے حد مدد ملے گی۔
اس عمارت کے اندر ہی خصوصی عدالتی کمروں اور طبی سہولیات کی دستیابی سے حراستی عمل انتہائی تیز اور محفوظ ہو جائے گا۔
قیدیوں کو تھانوں، اسپتالوں اور عدالتوں کے درمیان منتقل کرنا سیکیورٹی کے لیے ہمیشہ ایک بڑا خطرہ رہا ہے، لیکن ایچ 16 میں یہ تمام مراحل ایک ہی محفوظ احاطے میں مکمل کیے جا سکیں گے۔
سیاسی قیدیوں کے لیے ’وی وی آئی پی‘ سیلز
اس نئے حراستی مرکز میں ڈبل اسٹوری ہائی سیکیورٹی اور ’وی وی آئی پی‘ اینکسز کی تعمیر مکمل کر لی گئی ہے۔ یہ الگ تھلگ اور انتہائی محفوظ بیرکس حکام کو یہ سہولت فراہم کریں گی کہ وہ اہم سیاسی رہنماؤں یا حساس نوعیت کے قیدیوں کو عام مظاہرین اور زیرِ سماعت ملزمان سے مکمل طور پر الگ رکھ سکیں۔

بڑے سیاسی اجتماعات کے دوران سیاسی قیادت کا عام کارکنوں سے رابطہ منقطع کرنے کے لیے یہ حکمت عملی کلیدی کردار ادا کرے گی۔
اسٹریٹجک مقام اور ٹریفک کی بلا تعطل روانی
سیکٹر ایچ 16 کا محلِ وقوع اسٹریٹجک اور جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مقام ایم 1 اور ایم 2 موٹر وے نیٹ ورک اور جی ٹی روڈ جیسی اہم تجارتی و سفری شاہراہوں کے بالکل قریب واقع ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وفاقی دارالحکومت کے اہم داخلی راستوں سے اس جیل تک براہِ راست رسائی حاصل ہے۔
بڑے سیاسی مظاہروں کے دوران، خاص طور پر خیبرپختونخوا سے ایم 1 اور شمالی پنجاب سے جی ٹی روڈ کے راستے آنے والے قافلوں کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے قبل ہی قابو کر کے سیدھا اس جیل میں منتقل کیا جا سکے گا۔
اس طرح حکام کو مظاہرین کو شہر کے گنجان آباد علاقوں، بلیو ایریا، شاہراہِ دستور یا سری نگر ہائی وے جیسی اہم شاہراہوں سے گزارنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، جس سے نہ صرف بھاری پولیس نفری کی بچت ہوگی بلکہ شہریوں کے لیے ٹریفک کی روانی بھی متاثر نہیں ہوگی۔
لانگ مارچ، گرفتاریاں
اس منصوبے کی ٹائمنگ اور اس کے انتظامی پہلوؤں کا گہرا جائزہ لیا جائے تو یہ محض ایک عمارت کا افتتاح نہیں، بلکہ دارالحکومت کے سیکیورٹی اور انتظامی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے اس کا افتتاح عین اس وقت ہو رہا ہے جب پاکستان تحریک انصاف اپنے بڑے احتجاجی مارچ کی تیاریاں کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں:ملک میں کتنی سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہوگئیں؟ الیکشن کمیشن نے تفصیلات جاری کردیں
ماضی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بڑے پیمانے پر ہونے والی گرفتاریوں کے بعد قیدیوں کو رکھنے کے لیے جگہ کے تعین اور ٹرانسپورٹیشن کے شدید لاجسٹک مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
تاہم اب 1500 سے 2000 قیدیوں کی گنجائش والی اس تیار شدہ جیل کی بدولت گرفتاریوں کے فوراً بعد قیدیوں کی رجسٹریشن، شناخت اور طبی معائنے کا عمل تیزی سے مکمل ہو سکے گا۔
اگر آئندہ دنوں میں گرفتاریاں وسیع پیمانے پر ہوتی ہیں، تو یہ ماڈل جیل وفاقی دارالحکومت کا سب سے بڑا حراستی مرکز بن کر ابھرے گی۔ بصورتِ دیگر، پرامن حالات میں اسے بتدریج معمول کے قیدیوں کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔





