پنجاب میں کنٹریکٹ ملازمین کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا نیا طریقۂ کار طے کر لیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق آئندہ کسی بھی ملازم کے کنٹریکٹ میں توسیع کارکردگی کی بنیاد پر ہی کی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق کنٹریکٹ میں توسیع کے لیے ہر کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب کی پیشگی منظوری کی شرط ختم کر دی گئی ہے، متعلقہ تقرری حکام اپنے اختیارات کے تحت کنٹریکٹ کی مدت میں توسیع دے سکیں گے۔
جن آسامیوں پر تقرری کی مجاز اتھارٹی وزیراعلیٰ پنجاب ہیں، ان میں منظوری بدستور لازم ہوگی۔ صرف اچھی یا بہت اچھی کارکردگی کے حامل کنٹریکٹ ملازمین کے کنٹریکٹ میں توسیع کی سفارش کی جائے گی۔
نئے طریقۂ کار کے تحت ملازم کے موجودہ کنٹریکٹ کی مدت ختم ہونے سے پہلے توسیع کا فیصلہ کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ توسیع نہ ملنے کی صورت میں کنٹریکٹ ملازم کو مدت مکمل ہونے کے بعد کام جاری رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی اور کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد متعلقہ ملازم کی تنخواہ بھی جاری نہیں کی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب اور ضلعی اکاؤنٹس دفاتر کو کنٹریکٹ ملازمین کی مدتِ ملازمت پر کڑی نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے۔