خیبر پختونخوا میں مہنگائی، بے روزگاری اور مسلسل احتجاجی سیاست کے خلاف اقلیتوں، عام شہریوں اور خود پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے جس میں صوبائی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے گورنر راج کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت کی مسلسل لانگ مارچ اور دھرنوں سے کے باعث انتظامی معاملات شدید تنزلی کا شکار ہیں۔ ہندو برادری کے ایک نمائندے نے پی ٹی آئی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران جماعت محض اپنے سیاسی مفادات اور احتجاج میں الجھی ہوئی ہے، جبکہ اقلیتوں کے حقوق کی کسی کو کوئی فکر نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہندو برادری کی بیواؤں اور یتیموں کو ان کے جائز فنڈز تک فراہم نہیں کیے جا رہے۔ جب مستحقین سرکاری دفاتر کا رخ کرتے ہیں، تو عملہ مختلف حیلے بہانے بنا کر انہیں واپس بھیج دیتا ہے جس سے اقلیتوں میں شدید احساسِ محرومی جنم لے رہا ہے۔
ملاکنڈ اور پشاور میں عوامی غصہ
مہنگائی، بے روزگاری اور طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف ملاکنڈ کے عوام بھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مظاہرین نے پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے ’ناکام حکومت‘ اور ’سہیل آفریدی نامنظور‘ کے فلک شگاف نعرے لگائے۔
مقامی افراد کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کی احتجاجی پالیسیوں نے عوام کے مسائل میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اسی طرح پشاور میں بھی غریب اور دیہاڑی دار طبقہ سڑکوں پر آ گیا ہے۔
شہریوں کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے وطن اور بچوں کے مستقبل کے لیے سراپا احتجاج ہیں کیونکہ صوبائی حکومت کو عوامی فلاح کے بجائے صرف اڈیالہ جیل کا راستہ معلوم ہے۔ پشاور کے باسیوں کا واضح پیغام ہے کہ وہ لانگ مارچ نہیں بلکہ امن اور کاروبار چاہتے ہیں، کیونکہ ان سیاسی ہتھکنڈوں سے عام آدمی کا کوئی معاشی فائدہ نہیں ہو رہا۔
اپنی ہی قیادت پر کارکنوں کا عدم اعتماد
احتجاجی سیاست کے اثرات اب خود حکمران جماعت کے اندرونی تنظیمی ڈھانچے کو بھی کھوکھلا کر رہے ہیں۔ صبح سویرے پی ٹی آئی کے ورکرز اپنی ہی قیادت کے خلاف پھٹ پڑے۔
ایک کارکن نے انتہائی تلخ لہجے میں قیادت کو غدار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے خود راستے بند کروا کر عمران خان سے غداری کی تھی۔ کارکنان کا شکوہ ہے کہ انہوں نے اس قیادت کے ساتھ کھڑے ہو کر بڑی غلطی کی، کیونکہ مشکل وقت آنے پر رہنما انہیں تنہا چھوڑ کر غائب ہو جاتے ہیں۔
سیاسی کشمکش بمقابلہ طرزِ حکمرانی
خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کو ایک عرصے سے وفاق کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی کا سامنا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال اور مسلسل لانگ مارچ کی کالز نے صوبے کے انتظامی امور کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
جب ایک صوبائی حکومت اپنا تمام تر وقت اور وسائل وفاق پر چڑھائی کے لیے استعمال کرتی ہے، تو لامحالہ صحت، تعلیم، امن و امان اور معیشت جیسے بنیادی شعبے نظر انداز ہو جاتے ہیں، جس کا براہِ راست خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔
موجودہ سیاسی و سماجی منظر نامہ
سڑکوں پر ابھرنے والا یہ عوامی غیض و غضب دراصل مسلسل سیاسی ہیجان اور خراب طرزِ حکمرانی کا منطقی نتیجہ ہے۔ کوئی بھی معاشرہ مستقل بنیادوں پر دھرنوں اور سیاسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
جب عام آدمی کی بنیادی ضروریات یعنی روٹی، روزگار اور امن خطرے میں پڑ جائیں، تو نظریاتی نعرے اپنی کشش کھو دیتے ہیں۔ عوام اب ’لالی پاپ‘ کی سیاست کو بخوبی سمجھ چکے ہیں۔
اپنی ہی جماعت کے کارکنوں کا قیادت پر سرِعام عدم اعتماد اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بیانیے کا سحر اب ٹوٹ رہا ہے۔
صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کا ابھرتا ہوا مطالبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام موجودہ سیاسی عدم استحکام، نااہلی اور بدانتظامی سے اس حد تک تنگ آ چکے ہیں کہ وہ اب جمہوریت کے تسلسل سے زیادہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں سکون اور ریاستی رٹ کی بحالی کے خواہاں ہیں۔
اگر صوبائی حکومت نے اپنی ترجیحات کو سڑکوں سے ہٹا کر عوامی مسائل کے حل کی جانب مرکوز نہ کیا، تو یہ خلیج مزید گہری ہو کر کسی بڑے انتظامی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔