اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چیک کلیئرنگ کے نظام کو جدید بنانے اور ملک کے ادائیگیوں کے نظام کو تیز اور مؤثر بنانے کے لیے پاکستان ایکسپریس کلیئرنگ سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کردیا۔
نئے نظام کے تحت بینک چیک ٹرنکیشن کی جانب منتقل ہوں گے، جس کے ذریعے کاغذی چیکس کو بینکوں کے درمیان جسمانی طور پر منتقل کرنے کے بجائے ان کی الیکٹرانک تصاویر کے ذریعے کلیئر کیا جائے گا۔
اسٹیٹ بینک کے ڈیجیٹل انوویشن اینڈ سیٹلمنٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری سرکلر کے مطابق پاکستان ایکسپریس کلیئرنگ سسٹم کا پائلٹ مرحلہ 15 اکتوبر 2026 سے محدود تعداد میں شریک اداروں اور منتخب کلیئرنگ سرگرمیوں کے ساتھ شروع ہوگا۔
ڈیجیٹل طریقہ کار کے تحت پریزنٹنگ بینک چیک کی الیکٹرانک تصویر حاصل کرکے اسے مطلوبہ کلیئرنگ ڈیٹا کے ساتھ نیشنل انسٹی ٹیوشنل فسیلیٹیشن ٹیکنالوجیز کے کلیئرنگ ہاؤس کو ارسال کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے خلاف امریکا کا معاشی شکنجہ مزید سخت، غیر ملکی بینکوں کو بھی سنگین نتائج کی دھمکی
این آئی ایف ٹی چیک کی تصویر اور متعلقہ معلومات الیکٹرانک طور پر ادائیگی کرنے والے بینک کو پروسیسنگ کے لیے منتقل کرے گا، جس کے نتیجے میں کلیئرنگ کے آئندہ مراحل کے دوران اصل چیک کی جسمانی منتقلی کی ضرورت نہیں رہے گی۔
پائلٹ مرحلہ 15 نومبر تک جاری رہے گا، جس کے بعد این آئی ایف ٹی اور شریک ادارے نتائج کا جائزہ لیں گے، آپریشنل مسائل حل کریں گے اور مشترکہ تیاری کی رپورٹ اسٹیٹ بینک کو جمع کرائیں گے۔
دوسرا مرحلہ 16 نومبر سے 31 دسمبر 2026 تک جاری رہے گا، جس میں پی ای سی ایس کا دائرہ کار باقی کلیئرنگ ہاؤس ممبران تک بڑھایا جائے گا۔
اسٹیٹ بینک نے شریک مالیاتی اداروں کو مطلوبہ انفراسٹرکچر تیار کرنے، عملے کو تربیت دینے، ریگولیٹری تقاضوں کی تکمیل یقینی بنانے اور صارفین کو نئے چیک کلیئرنگ طریقہ کار سے آگاہ کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 10 روپے کا نوٹ بند ہوگا یا نہیں؟ اسٹیٹ بینک نے اہم وضاحت کردی
