ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کے تباہ یا متاثر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ تفصیلات امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں جنگ کے دوران امریکی فضائی اثاثوں کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق متاثر ہونے والے طیاروں میں جنگی جہاز، ہیلی کاپٹرز اور بغیر پائلٹ فضائی گاڑیاں شامل ہیں۔ ان میں بعض طیارے مکمل طور پر تباہ ہوئے جبکہ کئی کو نقصان پہنچا۔
ڈرونز کو سب سے زیادہ نقصان
کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق امریکی فضائی نقصانات میں ایم کیو نائن ریپر ڈرونز کا حصہ نمایاں رہا۔
یہ بھی پڑھیں :کانگرس پارٹی نے ایران امریکہ جنگ بندی کو مودی اور بھارتی حکومت کے لیے بہت بڑا دھچکا قرار دے دیا
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں کے دوران کم از کم 45 ایم کیو نائن ریپر ڈرونز ضائع ہوئے۔
یہ ڈرونز نگرانی اور مختلف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد میں تباہی نے امریکی فضائی آپریشنز کے نقصانات کو نمایاں کردیا ہے۔
اپنے ہی فریق کی فائرنگ
رپورٹ کے مطابق امریکی فضائی نقصانات کی تمام وجوہات ایرانی کارروائیاں نہیں تھیں۔
مارچ میں کویت میں امریکی فوج کے تین طیارے اپنے ہی فریق کی فائرنگ سے تباہ ہوئے۔ اس واقعے نے جنگی کارروائیوں کے دوران موجود خطرات کو بھی نمایاں کیا۔
اپریل میں ایران کے اوپر ایک ایف 15 ای طیارہ بھی تباہ ہوا۔ رپورٹ میں امریکی فضائی کارروائیوں کے دوران پیش آنے والے ان واقعات کو بھی نقصانات میں شامل کیا گیا ہے۔
اردن میں 8 ایف 15 متاثر
کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق ستمبر میں اردن کے ایک فضائی اڈے پر ایرانی حملے کے دوران آٹھ ایف 15 طیاروں کو نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق یہ تمام طیارے بعد میں دوبارہ سروس میں شامل ہوگئے۔ اس طرح نقصان کے باوجود امریکی فضائی طاقت کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں :امریکہ ایران میں جنگ بندی میں توسیع کامعاہدہ ہوگیا، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
رپورٹ میں دیگر امریکی فضائی اثاثوں کے متاثر ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں ایک ایف 35 اے لائٹننگ ٹو، اے 10 تھنڈربولٹ ٹو کے دو طیارے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سات کے سی 135 فضائی ایندھن بھرنے والے طیاروں کو بھی نقصان پہنچا۔ یہ طیارے جنگی مشنوں کے دوران امریکی فضائی آپریشنز کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
نقصانات کی تفصیل


