بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کا سامنا ہے،لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے مودی مخالف مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا اور نئی دہلی میں احتجاج کرنے والوں سے اظہارِ یکجہتی کیاگیا۔
دوسری جانب نئی دہلی کے معروف مقام جنتر منتر پر بھی ووٹرز کے ساتھ انتخابی عمل میں دونمبری اور بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کی اطلاعات ہیں،لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے ہونے والے مظاہرے نے انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات کو بیرونِ ملک بھی نمایاں کر دیا ہے۔
مظاہرین کی جانب سے مودی کے استعفے کا مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی دہلی میں بھی انتخابی معاملات پر احتجاج کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں، اس صورتِ حال کو مودی حکومت کے لیے سیاسی اور سفارتی سطح پر شرمندگی کا باعث قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :مودی سرکار کا اقلیتوں کیخلاف گھیرا تنگ، بھارت میں عیسائی بھی مذہبی پابندیوں کی زد میں
نئی دہلی کا جنتر منتر سیاسی اور عوامی احتجاج کے لیے ایک معروف مقام ہے، یہاں انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں اور ووٹروں کے حقوق سے متعلق خدشات کے خلاف احتجاج مودی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج بن سکتا ہے،انتخابی شفافیت کا معاملہ جمہوری نظام میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ووٹرز کا اعتماد انتخابی نتائج کی قبولیت کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔
لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے ہونے والا احتجاج اس معاملے کو بین الاقوامی توجہ دلانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہےمظاہرین نے نئی دہلی میں احتجاج کرنے والوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مودی سے استعفے کا مطالبہ کیا،کسی بھارتی وزیراعظم کے خلاف بیرونِ ملک احتجاج اور استعفے کے مطالبے کی گونج حکومت کے لیے سیاسی طور پر ناخوش گوار صورتِ حال پیدا کر سکتی ہے۔
جنتر منتر پر احتجاج اور لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر مودی مخالف مظاہرے کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو انتخابی شفافیت کا معاملہ ملکی سیاست سے نکل کر بیرونِ ملک بھی زیرِ بحث آتا دکھائی دیتا ہے۔مودی حکومت کے مخالفین اسے وزیراعظم کے لیے عالمی سطح پر شرمندگی قرار دے رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ انتخابی عمل سے متعلق تحفظات کا جواب دیا جائے۔مودی حکومت کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ ووٹرز کے خدشات اور انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا کس طرح جواب دیا جاتا ہے۔


