سوشل میڈیا اور مختلف غیر مصدقہ پلیٹ فارمز پر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو عہدے سے ہٹانے اور ان کی جگہ کسی اور کو وزیراعلیٰ بنانے سے متعلق پھیلنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آ گئی ہے۔
تحقیقات کے مطابق یہ تمام دعوے غیر مصدقہ، من گھڑت اور سراسر گمراہ کن ہیں۔
سوشل میڈیا پوسٹس اور کچھ قیاس آرائیوں میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں سیاسی و انتظامی تبدیلیوں کے تحت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ہٹا کر کسی دوسرے رہنما کو وزیراعلیٰ کے منصب پر فائض کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔
تحقیقات اور شواہد کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی تبدیلی یا کسی نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب سے متعلق دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔
صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد گورنر فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں ایک 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کی گئی تھی۔