مشیرِ اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے بلوچستان کے اضلاع قلات اور گوادر میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے میجر وجاہت وحید کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
بلوچستان کے اضلاع قلات اور گوادر میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الہندوستان کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں انتہائی کام یاب رہی ہیں، جن کے نتیجے میں 4 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ فتنۃ الہندوستان سمیت تمام دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے لیے قومی اتحاد اور مشترکہ جدوجہد ناگزیر ہے۔ پوری قوم وطنِ عزیز کے دفاع، امن کے قیام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
شہید میجر وجاہت وحید کی عظیم قربانی
ثمر ہارون بلوچ نے کہا کہ ضلع گوادر میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے دوران میجر وجاہت وحید نے جامِ شہادت نوش کیا۔ شہید میجر وجاہت وحید نے وطنِ عزیز کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے فرض شناسی اور حب الوطنی کی ایک عظیم اور کبھی نہ بھولنے والی مثال قائم کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جوانوں کی اس لازوال قربانی پر بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور شہید کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ خدمات کا اعتراف
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں اور ان کی پیشہ ورانہ خدمات انتہائی قابلِ فخر ہیں۔
ملک کے امن و استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی دی گئی قربانیاں ایسی ہیں جو کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ ان اداروں کی مسلسل تندہی اور عزم کی بدولت ملک کے اندرونی امن کو مستحکم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
پاکستان کے طویل المدتی سیکیورٹی منظرنامے میں بالخصوص بلوچستان کا خطہ بیرونی عناصر بالخصوص بھارتی پشت پناہی حاصل کرنے والے گروہوں کی تخریبی کارروائیوں کا ہدف رہا ہے۔
ریاست مخالف عناصر ملک میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے رہے ہیں، جس کے سدباب کے لیے سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ اور فیصلہ کن آپریشنز کا سلسلہ تیز کر رکھا ہے۔
اسی تناظر میں قلات اور گوادر میں ہونے والی حالیہ کارروائیاں دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کی اہم کڑی ہیں۔
اس طرح کی کارروائیاں اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ ریاست دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
فرنٹ لائن فورسز کی قربانیاں، جن میں افسران کی شہادتیں بھی شامل ہیں، اس جنگ کے کٹھن راستے کو ظاہر کرتی ہیں مگر ساتھ ہی عزمِ مصمم کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔
سیاسی اور انتظامی قیادت کی جانب سے اس طرح کے بیانات اور اخلاقی حمایت قومی اور صوبائی سطح پر ایک مضبوط صفِ اول کا تاثر قائم کرتی ہے، جو ملکی سلامتی کے استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔