وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں تقریباً 150 ایکڑ اراضی پر 8 عجائب گھر قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی دہائیوں سے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ سرکاری اراضی واگزار کرانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
محسن نقوی نے بدھ کے روز ملپور اور بھارہ کہو میں سرکاری اراضی کا دورہ کیا، جہاں انہیں مبینہ تجاوزات اور مجوزہ عجائب گھر منصوبے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ مجوزہ 8 عجائب گھر پاکستان کی تاریخ، ورثے، ثقافت اور قومی شناخت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کریں گے۔ منصوبے میں نیشنل ہیریٹیج میوزیم، ہسٹری میوزیم، آرمڈ فورسز میوزیم اور اسلامک میوزیم شامل ہیں، جبکہ باقی 4 عجائب گھروں کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔
منصوبے کے لیے جگہ کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور حکومت اسے وفاقی دارالحکومت میں ثقافت اور قومی ورثے کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ترقی دینا چاہتی ہے۔ تاہم منصوبے کی مجموعی لاگت اور تعمیراتی کام شروع ہونے کے شیڈول کی تصدیق نہیں کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق نیشنل میوزیم منصوبے کو اس کے ابتدائی مجوزہ مقام شکرپڑیاں سے منتقل کرکے بھارہ کہو کے قریب ایک بڑے مقام پر قائم کرنے کی تجویز ہے۔ اس منصوبے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت میں بھی بات چیت ہوئی، جہاں اراضی کی فراہمی، تعمیراتی منصوبہ بندی اور تاخیر سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق منصوبے کے لیے کوریا کی جانب سے 6.79 ملین ڈالر کی گرانٹ بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
مجوزہ عجائب گھر منصوبے کے ساتھ سرکاری اراضی واگزار کرانے کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ غیر قانونی قبضے میں موجود اراضی کی واپسی سے عوامی سہولتوں کے منصوبوں کے لیے جگہ دستیاب ہو سکتی ہے، تاہم اس کے لیے متعلقہ حکام کو ملکیت کا تعین اور قانونی طریقہ کار پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔
اس اعلان کے بعد اسلام آباد میں اراضی کے استعمال سے متعلق قواعد پر عمل درآمد اور ان علاقوں میں غیر مجاز تعمیرات و مبینہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کا معاملہ بھی زیر بحث آ گیا ہے جہاں یہ مسائل طویل عرصے سے موجود ہیں۔
محسن نقوی نے غیر قانونی قبضوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے، تاہم فارم ہاؤسز سمیت مبینہ طور پر غیر قانونی قبضے میں موجود اراضی کے خلاف کارروائی کے تفصیلی منصوبے اور 8 عجائب گھروں کی تعمیر شروع ہونے کی تاریخ سے متعلق مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
