جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے سابق چیئرمین جنرل(ر) زبیر محمود حیات نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعات حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر بحرانوں کو ان کی اصل وجوہات دور کیے بغیر ختم کیا گیا تو اس سے مستقبل میں مزید خطرناک تصادم کی راہ ہموار ہوگی۔
جنرل(ر) زبیر محمود حیات نے یہ بات اسلام آباد میں منعقدہ دوسری عدم پھیلاؤ کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس کانفرنس کی میزبانی اسٹریٹجک وژن انسٹی ٹیوٹ نے کی، جو اسلام آباد میں قائم ایک تھنک ٹینک ہے اور تزویراتی امور پر تحقیق کرتا ہے،جنرل زبیر نے کہا کہ کسی بحران کو اس کی بنیادی وجوہات حل کیے بغیر ختم کرنا صرف اگلے اور زیادہ خطرناک تصادم کی بنیاد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ برصغیر میں مسئلہ جموں و کشمیر کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، نہ ہی اسے محض انتظامی معاملہ قرار دے کر اس کی اہمیت ختم کی جاسکتی ہے،اسی طرح پانی جیسی مشترکہ ضرورت کو طاقت اور دباؤ کے ہتھیار میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل اور سندھ طاس معاہدے کی بحالی پر زور دیا۔
جنرل زبیر نے خبردار کیا کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بار بار پیدا ہونے والے بحران مزید خطرناک صورت اختیار کرسکتے ہیں، خصوصاً جب بنیادی تنازعات حل نہ ہوں، تحمل کا مظاہرہ کم ہوتا جائے اور مسلسل سیاسی مذاکرات کا فقدان علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچاتا رہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تنازعات حل طلب رہیں اور تحمل کا مظاہرہ کمزور پڑنے لگے تو ہر بار کسی بحران کا کامیابی سے خاتمہ کسی نظرثانی پسند ملک، مثلاً بھارت، کو اگلا بحران پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ شروع کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔
مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فوجی جھڑپ کا حوالہ دیتے ہوئے جنرل(ر) زبیر حیات نے کہا کہ پاکستان نے ایک نپی تلی اور متوازن جوابی کارروائی کے ذریعے اپنی فوجی صلاحیت اور سیاسی کنٹرول کا مظاہرہ کیا پاکستان نے بھارت کو یکطرفہ طور پر اپنی مرضی مسلط کرنے سے روکا اور ساتھ ہی جنگ کو لامحدود پیمانے تک پھیلنے سے بھی بچایا۔
انہوں نے کہا کہ اس تصادم سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ مستقبل میں جھڑپوں کو روکنے کے لیے صرف جنگی باز deterrence یعنی دشمن کو ممکنہ نقصان کے خوف سے حملے سے باز رکھنے کی حکمت عملی پر انحصار کافی نہیں۔
جنرل(ر) زبیر حیات نے کہا کہ اس واقعے سے حاصل ہونے والا بڑا سبق یہ نہیں کہ دو جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ کو معمول کا واقعہ بنایا جاسکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ جنگ کے لیے کوئی ایسا محفوظ دائرہ موجود نہیں جس کے بارے میں پہلے سے ضمانت دی جاسکے کہ حالات قابو سے باہر نہیں ہوں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل میں کوئی بھی بحران مختلف حالات میں جنم لے سکتا ہے، جہاں نئی ٹیکنالوجیز، مختلف سیاسی قیادتیں اور فیصلے کرنے کے لیے محدود وقت غلط اندازوں، غیر ارادی کشیدگی اور حالات کے بے قابو ہونے کے خطرات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔
جنرل(ر) زبیر حیات نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اس لیے قائم نہیں ہوسکا کہ خطے میں ایسا جامع علاقائی سلامتی کا نظام موجود نہیں جو تمام متعلقہ ممالک کو شامل کرے۔ اسی طرح بحرانوں سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے طریقہ کار اور مسلسل سیاسی مذاکرات کا بھی فقدان ہے انہوں نے اس صورت حال کا ذمہ دار بھارت کے ہندوتوا نظریے اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ خطہ ایک ایسی صورت حال میں رہ رہا ہے جہاں ایک طرف جنگی باز deterrence بدترین حالات کو روکنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ دوسری طرف حل طلب تنازعات بار بار نئے خطرات پیدا کرتے رہتے ہیں۔
جنرل(ر) زبیر حیات نے غیر مصدقہ الزامات کے خطرات سے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کی جانب سے حقائق کی تصدیق کیے جانے سے پہلے ہی ایسے الزامات ایک بڑے تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل میں کوئی جنگ کسی ریاست کے دانستہ فیصلے کے بجائے کسی حادثے یا غلط فہمی سے بھی شروع ہوسکتی ہے، خصوصاً جب الزامات کی تشہیر ان کی تصدیق سے زیادہ تیزی سے ہونے لگےانہوں نے اس تناظر میں جاری آپریشن سندور کا حوالہ بھی دیا۔
اسٹریٹجک وژن انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر نعیم سالک نے کانفرنس کے ایک ورکنگ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر اسلحے کے کنٹرول کا نظام کمزور پڑ رہا ہے، توسیعی جوہری بازدار قوت کے بارے میں غیر یقینی صورت حال بڑھ رہی ہے اور بڑی طاقتوں کے درمیان تزویراتی مسابقت میں شدت آرہی ہے، جس سے دنیا کو لاحق جوہری خطرات میں اضافہ ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روایتی اور جوہری کمانڈ و کنٹرول نظام، ابتدائی وارننگ کے بنیادی ڈھانچے اور تزویراتی اثاثوں کے درمیان بڑھتا ہوا باہمی انحصار غلط اندازوں، غیر ارادی کشیدگی اور قبل از وقت جوہری فیصلوں کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔
اسلام آباد میں منعقد ہونے والی دو روزہ عدم پھیلاؤ کانفرنس میں پاکستان اور دیگر ممالک کے جوہری امور کے ماہرین نے شرکت کی۔ کانفرنس میں علاقائی بازدار قوت، مئی 2025 کے پاک بھارت تصادم سے حاصل ہونے والے اسباق، عالمی جوہری نظام میں تبدیلیوں اور جوہری خطرات کم کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔